انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 547 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 547

انوار العلوم جلد ۸ ۵۴۷ دورہ یورپ ایک نہ نظر آنے والے خدا کا تخیل ناممکنات سے سمجھتے تھے۔ پس جب وہ آپ کو دیکھتے، ہنتے اور کہتے کہ دیکھو اس شخص نے سب خداؤں کو اکٹھا کر دیا ہے کیونکہ وہ خیال کرتے تھے کہ کئی خداؤں کے ہونے میں تو کوئی شبہ ہی نہیں ۔ پس محمد صلی الہم جو کہتے ہیں کہ ایک ہی خدا ہے اس سے مراد ان کی یہ ہے کہ انہوں نے اب سب خداؤں کو اکٹھا کر کے ایک ہی بنا دیا ہے۔ اور اپنی اس غلط فہمی کی بیہودگی کو آپ کی طرف منسوب کرکے خوب قہقے لگاتے ۔ بعث بعد الموت کا عقیدہ بھی ان کے لئے عجیب تھا وہ ہنستے اور کہتے کہ یہ شخص خیال کرتا ہے کہ جب ہم مر جائیں گے تو پھر زندہ ہوں گے۔ صحابہ کا حبشہ کو ہجرت کرنا جب مسلمانوں کی تکلیفیں بہت بڑھ گئیں تو رسول کریم ملی ام نے صحابہ کو اجازت دے دی کہ وہ حبشہ کو جو اس وقت بھی ایک مسیحی حکومت تھی ہجرت کر کے چلے جاویں۔ چنانچہ اکثر مسلمان مرد و عورت اپنا وطن چھوڑ کر افریقہ کو چلے گئے۔ مکہ والوں نے وہاں بھی ان کا پیچھا نہ چھوڑا بادشاہ کے پاس ایک وفد بھیجا کہ ان لوگوں کو واپس کردیں تاکہ ہم انکو سزا دیں۔ مسیحی بادشاہ بہت ہی منصف مزاج تھا جب اس کے پاس وفد پہنچا تو اس نے دوسرے فریق کا بھی بیان سننا پسند کیا اور مسلمان دربار شاہی میں بلائے گئے۔ یہ واقعہ نہایت ہی دردناک ہے ہم قوموں کے ظلموں سے تنگ آکر اپنے وطن کو خیر باد کہنے والے مسلمان ابی سینیا کے بادشاہوں کے دربار میں اس خیال سے پیش ہوتے ہیں کہ اب شاید ہم کو ہمارے وطن کو واپس کرایا جائے گا اور ظالم اہل مکہ اور بھی زیادہ ظلم ہم پر کریں گے۔ جب وہ بادشاہ کے سامنے پیش ہوئے تو اس نے پوچھا کہ تم میرے ملک میں کیوں آئے ہو؟ مسلمانوں نے جواب دیا کہ اے بادشاہ ہم پہلے جاہل تھے اور ہمیں نیکی اور بدی کا کوئی علم نہ تھائیوں کو پوجتے تھے اور خدا تعالیٰ کی توحید سے ناواقف تھے۔ ہراک قسم کے بُرے کام کرتے تھے ، ظلم ، ڈاکہ قتل بد کاری ہمارے نزدیک معیوب نہ تھے ۔ اب اللہ تعالی نے محمد سلیم) کو مبعوث کیا اس نے ہمیں ایک خدا کی پرستش سکھائی اور بدیوں سے ہمیں روکا انصاف اور عدل کا حکم دیا محبت کی تعلیم دی اور تقوی کا راستہ بتایا تب وہ لوگ جو ہمارے بھائی بند ہیں انہوں نے ہم پر ظلم کرنا شروع کیا اور ہم کو طرح طرح کے دکھ دینے شروع کئے ہم آخر تنگ آکر اپنا وطن چھوڑنے پر مجبور ہو گئے اور تیرے ملک میں آئے ہیں۔ اب یہ لوگ ہمیں واپس لے جانے کے لئے یہاں بھی آگئے ہیں ہمارا قصور اسکے سوا کوئی نہیں کہ ہم اپنے خدا کے پرستار ہیں۔