انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 548 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 548

انوار العلوم جلد ۸ ۴۸ دورہ یورپ شاہِ حبشہ کا واپس کرنے سے انکار اور صحابہ کی مدد کرنا اس تقریر کا بادشاہ پر ایسا اثر ہوا کہ اس نے مسلمانوں کو واپس کرنے سے انکار کردیا مکہ کے وفد نے درباریوں سے ساز باز کر کے پھر بھی دوسرے دن بادشاہ کے سامنے وہی سوال پیش کیا اور کہا کہ یہ حضرت مسیح کو گالیاں دیتے تھے۔ بادشاہ نے پھر دوبارہ مسلمانوں کو بلایا انہوں نے جو اسلام کی تعلیم مسیح کے متعلق ہے بیان کی کہ ہم انکو خدا تعالی کا پیارا اور نبی مانتے ہیں ہاں ہم انہیں کسی طرح بھی خدائی کے قابل نہیں جانتے۔ کیونکہ ہمارے نزدیک خدا تعالیٰ ایک ہے اور اس بات پر درباری جوش میں آگئے اور بادشاہ سے مطالبہ کیا کہ وہ انکو سزا دے مگر بادشاہ نے کہا کہ یہی میرا عقیدہ ہے اور اس عقیدہ کیوجہ سے ان لوگوں کو ظالموں کے ہاتھوں میں نہیں دے سکتا۔ پھر درباریوں سے کہا کہ مجھے تمہارے غصہ کی بھی پروا نہیں ہے خدا کو بادشاہت پر ترجیح دیتا ہوں اہل مکہ کا آپ کے تکلیفیں دینی شروع کیں۔ اور اکران کے چچا کو تنگ کرنا ادھر اہل مکہ نے رسول کریم میں کو اور زیادہ اور آکر آپ کے چچا کو جو مکہ کے بڑے ر رئیس تھے اور انکی وجہ سے لوگ آپکو زیادہ دکھ دینے سے ڈرتے تھے کہا کہ آپ آر کسی اور رئیس کا لڑکا اپنا لڑکا بنالیں اور محمد صلی علیم کو ہمارے حوالہ کردیں تاہم اسکو سزا دیں۔ انہوں نے کہا یہ عجیب درخواست ہے تم چاہتے ہو کہ میں تمہارے لڑکے کو لے کر اپنا مال اس کے حوالہ کردوں اور اپنے لڑکے کو تمہارے حوالہ کردوں کہ تم اسے دکھ دے دے کر مار دو۔ کیا کوئی جانور بھی ایسا کرتا ہے کہ اپنے بچہ کو مارے اور دوسرے کے لڑکے کو پیار کرے؟ جب اہل مکہ نا امید ہوئے تو انہوں نے درخواست کی کہ اچھا آپ اپنے بھتیجے کو یہ سمجھائیں کہ وہ خدا تعالی کے ایک ہونے پر اسقدر زور نہ دیا کرے اور یہ نہ کہا کرے کہ بُتوں کی پرستش جائز نہیں اور جو کچھ چاہے کیے۔ چنانچہ آنحضرت کو انکے چچا نے بلا کر کہا کہ مکہ کے رؤساء ایسا کہتے ہیں کیا آپ ان کو خوش نہیں کر سکتے؟ رسول کریم ملی ہم نے جواب دیا کہ آپ کے مجھ پر بہت احسان ہیں مگر میں آپ کے لئے خدا کو نہیں چھوڑ سکتا۔ اگر آپ کو لوگوں کی مخالفت کا خوف ہے تو آپ مجھ سے الگ ہو جائیں مگر میں اس صداقت کو جو مجھے خدا سے ملی ہے ضرور پیش کروں گا۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ میں اپنی قوم کو جہالت میں مبتلا دیکھوں اور خاموش بیٹھارہوں۔