انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 546 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 546

انوار العلوم جلد ۸ اس کو مار دیا گیا۔ آپ ۵۳۶ دورہ یورپ پر لوگوں کے ظلم خود رسول کریم میں ہم کو بھی بہت دکھ دیتے تھے گو ڈرتے بھی تھے کیونکہ آپ کے خاندان کی مکہ میں بہت عزت تھی ۔ لوگ آپ کو گالیاں دیتے بعض دفعہ نماز میں جب آپ سجدہ کرتے تو سر پر او جھری ڈال دیتے۔ کبھی سر پر راکھ پھینک دیتے۔ ایک دفعہ آپ سجدہ میں تھے کہ ایک شخص آپ کی گردن پر پاؤں رکھ کر کھڑا ہو گیا اور دیر تک اس نے آپ کو اس طرح دبائے رکھا۔ ایک دفعہ آپ عبادت کے لئے خانہ کعبہ میں گئے تو آپ کے گلے میں کپڑا ڈال کر گھونٹنا شروع کر دیا ۔ مگر باجود ان مخالفتوں کے آ۔ آپ تبلیغ میں لگے رہتے اور ذرہ پرواہ نہ کرتے ۔ ۵۲ جہاں بھی لوگ بیٹھے ہوتے آپ وہاں جا کر ان کو تعلیم دیتے کہ خدا تعالیٰ آپ کا تعلیم دینا نہیں ہے اسے کوئی بود یا نہ اس کاکوئی بات ہے نہ ہی نہ اسی سوا بیٹی سے کوئی پیدا ہوا اور نہ وہ کسی کا بیٹا ہے ۔ نہ زمین میں نہ آسمان میں اس کا کوئی شریک نہیں۔ اس پر ایمان لانا چاہئے اور اس سے دعائیں مانگنی چاہئیں ۔ وہ لطیف ہے اس کو کوئی نہیں دیکھ سکتا اس میں سب طاقتیں ہیں اسی نے دنیا کو پیدا کیا ہے اور جب لوگ مر جاتے ہیں تو ان کی روحیں اسی کے پاس جاتی ہیں اور ایک زندگی ان کو دی جاتی ہے۔ اور چاہئے کہ اس کی محبت کو اپنے دل میں پیدا کریں اور اس سے تعلق کو مضبوط کریں اور اس کے قریب ہونے کی خواہش کریں اور اپنے خیالات اور اپنی زبان کو پاک کریں ۔ کوئی جھوٹ نہ بولے ، قتل نہ کرے ، فساد نہ کرے، چوری نہ کرے، ڈاکہ نہ مارے عیب نہ لگائے، طعنہ نہ دے ، بد کلامی نہ کرے ، ظلم نہ کرے ، حسد نہ کرے اور اپنے وقت کو اپنے آرام اور عیاشی میں صرف نہ کرے بلکہ بنی نوع انسان کی ہمدردی اور بہتری میں گزارے اور محبت اور اُنس کی اشاعت کرے۔ مشرکوں کی حالت کا نقشہ یہ تعلیم تھی جو آپ دیتے مگر باوجود اس کے کہ یہ تعلیم اعلیٰ درجہ کی تھی لوگ آپ پر ہنتے۔ مکہ کے لوگ سخت ثبت پرست تھے اور سینکڑوں بت بنا کر اپنے معبد میں رکھے ہوئے تھے جن کے سامنے وہ روزانہ عبادت کرتے تھے اور جن کے آگے باہر سے آنیوالے لوگ نذرانے پڑھاتے تھے جن پر کئی معزز خاندانوں کا گزارہ تھا۔ ان لوگوں کے لئے ایک خدا کی عبادت بالکل عجیب تعلیم تھی، وہ اس بات کو کو سمجھ ہی نہیں سکتے تھے کہ خدا تعالی کیوں انسان کی شکل میں کسی پتھر کے بت میں ظاہر نہیں ہو سکتا۔ وہ