انوارالعلوم (جلد 8) — Page 532
انوار العلوم جلد ۸ ۵۳۲ دورہ یورپ ایجی ٹیشن ایک عمدہ ذریعہ عام رائے کے نفاذ کا ہے مگر جب حکام عام رائے کے ماتحت بدلے نہ جاسکتے ہوں تو پھر ایجی ٹیشن سوائے ریولیوشن کے اور کیا نتیجہ پیدا کر سکتا ہے۔ جب حکام عام رائے کے ماتحت ہوتے ہیں تو وہ یہ نہیں دیکھتے کہ عام رائے صحیح ہے یا غلط بلکہ جو عام رائے ہو وہ اس کی اتباع کرنا اپنا فرض سمجھتے ہیں نہیں تو کام سے علیحدہ ہو کر ان لوگوں کو موقع دیتے ہیں جو عام رائے سے متفق ہیں۔ مگر جو حکام عام رائے کے ماتحت نہیں وہ اگر دیانتدار ہوں تو عام امور کو اس نقطہ نگاہ سے دیکھتے ہیں کہ کیا وہ بات ملک کے لئے مفید بھی ہے یا نہیں اگر وہ کسی بات کو ملک کے لئے مصر پاتے ہیں تو اس کو رد کر دیتے ہیں ایسے لوگوں کے خلاف ایجی ٹیشن ہو اور حکام اور عام رائے میں اتفاق نہ ہو سکے تو اس کا لازمی نتیجہ ریولیوشن ہو گا۔ میرے نزدیک ریفارم سکیم بناتے وقت اس امر کو واضعین نے بالکل نظر انداز کر دیا ہے اور انگلستان کی موجودہ حالت پر قیاس کرکے ایجی ٹیشن کو ریولیوشن کا ذریعہ سمجھ لیا ہے حالانکہ ہندوستان میں ملک کی رائے کو گورنمنٹ کے مقرر کرنے یا الگ کرنے میں کوئی دخل نہیں ہے اور اس وجہ سے وہاں ایسا طریق حکومت جو لاز ما ایجی ٹیشن پیدا کرتا ہو یقینار بخش یا ریولیوشن ان دو میں سے ایک نتیجہ پیدا کرے گا۔ میری یہ رائے تھی اور اب بھی ہے کہ کونسلوں میں کثرت رائے کیا ہونا چاہئے تھا؟ گورنمنٹ ممبروں کی ہونی چاہئے تھی لیکن گورنر جنرل اور گورنروں کو ہدایت ہونی چاہئے تھی کہ جب ایسے حالات پیش ہوں جن کی نسبت گورنمنٹ سمجھتی ہے کہ کوئی فیصلہ بھی کونسل کرے وہ اس پر عمل کریں گے ان میں گورنمنٹ ممبر ووٹ نہ دیں اور پبلک رائے پر اس معاملہ کو چھوڑ دیں۔ جو معاملات زیادہ اہم نہ ہوں لیکن ان کا اثر گورنمنٹ پر بھی پڑتا ہو۔ ان میں گورنمنٹ ممبروں کو آزاد چھوڑ دے کہ وہ اپنی ذاتی رائے کے مطابق عمل کریں اور جس امر میں گورنمنٹ یہ سمجھے کہ وہ اپنے نقطہ نگاہ کو نہیں بدل سکتی اس میں کثرت رائے سے جو اس کی ہوگی فیصلہ کرے۔ اس امر کو نہیں بھولنا چاہئے کہ انسانی فطرت ہر وقت زندہ رہتی ہے اور عقل اور دلیل اس پر پورے طور پر غالب نہیں آسکتی ملک پر اس کا اثر بالکل اور پڑتا ہے کہ اس کی منتخب کردہ جماعت ایک فیصلہ کرے اور اسکو رد کر دیا جائے اور اسکا اثر اور پڑتا ہے کہ ایک کونسل جس میں خواہ گورنمنٹ کے ممبر ہی ہوں کثرت رائے سے ایک مسودہ کو رد کر دے یا پاس کر دے دوسرا نقص ریفارم سکیم میں یہ رہ گیا ہے کہ اس میں کامل اختیار ہندوستانیوں کو کسی