انوارالعلوم (جلد 8) — Page 531
انوار العلوم جلد ۸ ۵۳۱ دورہ یورپ ہیں کہ یہ سکیم اپنی موجودہ صورت میں ہندوستان کی بیماری کا علاج نہیں ہے۔ میرا یہ مطلب نہیں ہے کہ اس سے زیادہ اختیارات ہندوستانیوں کو دینے چاہئیں جو یہ سکیم دیتی ہے بلکہ میرا مطلب یہ ہے کہ جس طریق سے اختیار دیئے گئے ہیں وہ درست نہیں بلکہ ان سے فساد پیدا ہوتا ہے۔ جس وقت اس سکیم کو رائج کیا گیا ہے اس وقت اس کے متعلق میری رائے بھی پوچھی گئی تھی اور میں نے جو رائے اس وقت دی تھی گو اس وقت کے حالات کے ماتحت کہ حکام میں ایک تسلی کی روح پھیلی ہوئی تھی قبولیت کے قابل نہیں سمجھی گئی تھی۔ مگر بعد کے واقعات نے ثابت کر دیا ہے کہ میری رائے درست تھی۔ 1 ریفارم سکیم نے یہ اصل قرار دیا ہے کہ ہندوستانی ایلیکٹڈ (ELECTED) ممبر کو نسلوں میں زیادہ ہونے چاہئیں میرے نزدیک یہ غلط اصل تھا اور ایجی ٹیشن کی بنیاد یہیں سے رکھی گئی ہے۔ میں نے اعتراض کیا تھا کہ ضرور ہے کہ مختلف موقعوں پر ہندوستانی ممبر گورنمنٹ کی رائے کے خلاف ہوں جب وہ خلاف ہوں گے اور گورنمنٹ کے مسودہ کو رد کریں گے یا اس کی رائے کے خلاف کوئی مسودہ پاس کریں گے اور گورنمنٹ اس کو قبول نہ کرے گی تو یقینا ملک کے لوگ ہندوستانی ممبروں کے ساتھ ہوں گے اور اس سے ایجی ٹیشن پیدا ہو گا اور اگر اس ایجی ٹیشن کے ذریعہ گورنمنٹ اس کو قبول کرے گی تو گویا وہ خود اس اصل کو باطل کر دے گی کہ ابھی کچھ عرصہ کے لئے ہندوستانی کامل سلف گورنمنٹ کے قابل نہیں ہیں۔ ویٹو صرف اس جگہ کام دیتا ہے جہاں یہ تسلیم کر لیا جاتا ہے کہ گو دار النواب حکومت کی قابلیت رکھتا ہے لیکن کسی غیر معمولی موقع کے خیال سے ویٹو کا دروازہ کھلا رکھا جاتا ہے اور چونکہ وہ شاذ و نادر ہوتا ہے اس لئے اس پر ملک اس قدر برافروختہ نہیں ہوتا مگر جہاں اعلیٰ اتھارٹیز اس امر کو تسلیم کرتی ہیں کہ ابھی دار النواب حکومت کے قابل نہیں ہے وہاں اس کو اختیار دیگر دینو سے بد نتائج کو روکنے کی کوشش کرنا گویا خود فساد پیدا کرنا ہے۔ غرض ویٹو کا طریق اسی وقت بغیر فساد پیدا کرنے کے کام دے سکتا ہے جب واضعان قوانین اس امر کو تسلیم کر لیتے ہیں کہ جن لوگوں کے خلاف اس کو استعمال کرنا ہے وہ فیصلہ کرنے کی پوری قابلیت رکھتے ہیں اور ان کے فیصلہ کے خلاف اس کو استعمال کرنے کا موقع یا تو بالکل نہیں ملے گا یا شاذ و ناد رہی ملے گا۔ اسی طرح ایجی ٹیشن کا دروازہ بھی اسی وقت جائز طور پر کھولا جا سکتا ہے جبکہ وہ حکام جن کے خلاف اس کو استعمال کیا جائے رائے عامہ کے ماتحت بدلے جاسکتے ہوں۔ اس وقت بے شک