انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 533 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 533

انوار العلوم جلد ۸ ۵۳۳ دورہ یورپ صیغہ میں بھی نہیں ملے اور جرح کرنے کا اختیار ہر صیغہ میں مل گیا ہے۔ بغیر ذمہ داری کے تنقید کرنا بالکل آسان ہوتا ہے ذمہ داری انسان کو بہت محتاط بنادیتی ہے نتیجہ یہ ہوا ہے کہ ہندوستانیوں کے لئے تسلی کی صورت کوئی پیدا نہیں ہوئی اور رنج کی صورتوں کے نکلنے کے لئے دروازہ کھول دیا گیا ہے۔ میرا مشورہ یہ تھا کہ دو صیغے مثلاً تعلیم اور جنگلات اور تعلیم یا کوئی اور صیغہ گلی طور پر ہندوستانیوں کو سپرد کر دیا جائے صوبوں میں بھی اور مرکزی حکومت میں بھی ان صیغوں میں ہندوستانی وزراء اور گورنران گورنر جنرل سے مل کر کام کریں اور وزراء پورے طور پر کو نسلوں کے ماتحت ہوں۔ اگر کو نسلیں وزراء کے کام پر خوش نہ ہوں تو وہ کام سے علیحدہ ہو جائیں۔ جس طرح کہ مغربی ممالک میں ہوتا ہے اس کے کئی فائدے تھے اول تو یہ کہ ہندوستانیوں کو بغیر حکومت کو کوئی معتد بہ نقصان پہنچانے کے حکومت کا تجربہ ہو جاتا۔ دوسرے ان کو یہ تسلی ہوتی کہ بعض صیغوں میں ان کو اپنی لیاقت اور حسن انتظام کا موقع مل گیا ہے۔ تیسرے ملک کو بھی ممبران کو نسل کے کام دیکھنے کا موقع ملتا اور صحیح اصول پر سیاسی پارٹیوں کے نشو و نما کا راستہ کھل جاتا۔ اب چونکہ ذمہ داری کوئی نہیں صرف تنقید ہی ان کا کام ہے اس لئے سب ملک ان کے کام کی خوبی کی وجہ سے نہیں بلکہ ان کے ہندوستانی ہونے کے سبب سے ان کی تائید کرنے لگتا ہے۔ چوتھے وزراء چونکہ کو نسلوں کے سامنے ذمہ دار ہوتے ان کو اپنے ہم خیال بنانے اور ان کو ساتھ ملائے رکھنے کا خیال رہتا اور مختلف خیالات میں توازن قائم رہتا۔ اب یہ ہوتا ہے کہ وزراء کو ملکی ہوتے ہیں مگر چونکہ کونسل کے سامنے جوابدہ نہیں ہوتے اس لئے دوسروں کی دلجوئی اور ان کو اپنے ساتھ رکھنے کی پوری کوشش نہیں کرتے اور اس کا بداثر گورنمنٹ کی نیک نامی پر پڑتا ہے۔ پانچواں زبردست فائدہ یہ تھا کہ اس سے غیر ذمہ دارانہ تنقید کا دروازہ آسانی سے بند کیا جا سکتا تھا۔ اسی وقت اور انہیں معاملات میں مؤثر تنقید کا موقع کو نسلوں کو دیا جاتا جب اور جن معاملات کی نسبت خیال کیا جاتا کہ انکو ہندوستانیوں کے سپرد کر دینے سے کوئی حرج نہیں۔ آئندہ سلف گورنمنٹ کی ترقی کے مدارج اختیارات کی زیادتی میں نہ ہوتے بلکہ صیغوں کی زیادتی میں ہوتے۔ رفتہ رفتہ پھر جو صیغے محفوظ سمجھے جاتے وہ ہندوستانیوں کو دے دیئے جاتے۔ اس طرح گورنمنٹ اور رعایا کے تعلقات بھی درست رہتے اور فرقوں کو آپس میں نیک سلوک پیدا کرنے کا بھی موقع ملتا ۔