انوارالعلوم (جلد 8) — Page 530
انوار العلوم جلد ۸ ۵۳۰ دورہ یورپ ان حالات کو جب دیکھا جائے تو مجبور ا ماننا پڑتا موجودہ حالت میں سب سے بڑی تباہی ہے کہ ہندوستان کی اس خواہش کا کچھ علاج ضرور ہونا چاہئے ورنہ قیام امن مشکل ہو گا۔ مگر میں جو حالات پہلے حصہ مضمون پر بتلا آیا ہوں وہ اس کے مخالف ہیں کہ ہندوستان کو موجودہ وقت میں سوراج ملے۔ جو قومیں اس وقت ایک دوسرے سے انصاف نہیں کر سکتیں اور ایک معمولی سے اشتعال پر ایک دوسرے کا گلا کاٹنے کے لئے تیار ہو جاتی ہیں وہ اس وقت کیا کریں گی جب انگریز واپس جاویں اور ان کو کامل اختیارات حاصل ہو جائیں۔ میرے نزدیک ہندو مسلمان بھی اپنے دلوں میں اس امر کو خوب سمجھتے ہیں لیکن ان میں سے کم سے کم ایک حصہ اپنے دلوں میں اس امر پر خوش ہے کہ ہم طاقتور ہیں۔ انگریزوں کے باہر نکلتے ہی ہم حکومت پر قابض ہو جائیں گے۔ مسلمانوں کو اپنی طاقت اور ہمسایہ مسلمان حکومتوں پر گھمنڈ ہے۔ ہندوؤں کو اپنی تعداد اور بعض ہمسایہ بدھ حکومتوں پر گھمنڈ ہے۔ نہایت دبی آرزوؤں میں ہم گو رکھا اور سکھ سپاہی اور پٹھان سپاہی کی قابلیت اور طاقت کے مواز نے سنتے ہیں اور میرے نزدیک ہندو قوم ایسی منظم ہو چکی ہے کہ مسلمانوں کے دعوے ایک ورثہ میں ملے ہوئے خیال سے زیادہ وقعت نہیں رکھتے۔ پس میرے نزدیک موجودہ حالات میں سب سے بڑی تباہی ہندوستان کے لئے یہی ہو سکتی ہے کہ انگریز اپنا قدم وہاں سے ہٹالیں۔ سلف گورنمنٹ اچھی چیز ہے مگر وہ سلف گورنمنٹ جو سیلف ڈسٹرکشن کی طرف لے جائے ہرگز قابل پسند نہیں۔ مگر ہمارا یہ فیصلہ کہ اس وقت کے سوشل حالات ہندوستان کو سلف گورنمنٹ دلانے کی تائید نہیں کرتے کافی نہیں ہو سکتا کیونکہ خواہش پیدا ہو چکی ہے اور عام بھی ہو چکی ہے اور اگر اس خواہش کو کسی طرح ٹھنڈا نہ کیا گیا تو اس سے مایوسی پیدا ہو گی۔ اور اس کے نتیجہ میں پھر مایوسی کا نتیجہ یا ہلاکت نفس ہوتی ہے یا ہلاکت غیر ۔ پس سلف گورنمنٹ دی جائے یا نہ دی جائے دونوں صورتوں میں ہلاکت ہندوستان کا منہ تک رہی ہے اور برٹش ایمپائر کے بہی خواہوں کا فرض ہے کہ وہ اس کا علاج سوچیں کیونکہ ہندوستان کی ہلاکت میں ایمپائر کی ہلاکت ہے اور برٹش ایمپائر کے بدخواہ ابھی سے اس پر خوشی کا اظہار کر رہے ہیں۔ سیکیم بعض لوگ کہتے ہیں کہ ما نمیگو چیمسفورڈ ریفارم سکیم سے اس کا علاج ہے۔ ریفارم سکیم میرے نزد ، نزدیک جن اصول پر اس رپورٹ کی بنیاد ہے اور ج ر ہے اور جس نیت سے تیار کی گئی ہے وہ قابل تعریف ہیں۔ مگر میرے نزدیک اس سکیم میں بعض اصولی غلطیاں ایسی رہ گئیں