انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 486 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 486

انوار العلوم جلدے ۲۸۶ دورہ یورپ غیب خبریں حضرت مسیح موعود کی پیشگوئیاں ہیں بے شک رب کی نہیں ہیں مگر دنیا کی ہزاروں ہو ہے اور پر گواہ ہے کیا یہ عجب نہیں ہے کہ چونتیس سال پہلے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس وقت جبکہ اکیلے تھے یہ پیشگوئی اپنی کتاب کے ذریعہ شائع کی تھی کہ آپ کی تعلیم انگلستان جلد ہی پہنچنے والی ہے اور وہاں کے کئی لوگ اسے عنقریب قبول کرنے والے ہیں۔ اور آج تم دیکھتے ہو کہ اس کے متبعین کی ایک جماعت تمام انگلستان میں صداقت کا اعلان کرتی پھرتی ہے اور کئی لوگ اس وقت تک سلسلہ میں داخل ہو چکے ہیں۔ پس خدا کے کاموں کو عجیب نہ سمجھو اس کی قدرت کے آگے سب کچھ آسان ہے۔ اے سچائی کے طالبو! اور اے خدا تعالی سے لقاء کی کچی تڑپ رکھنے والو!! میں اپنے تجربہ کی بناء پر آپ لوگوں کو کہتا ہوں کہ خدا سے لقاء کا ذریعہ سوائے مسیح موعود کی اتباع کے اور کوئی نہیں۔ آج سب دروازے بند ہیں سوائے اس کے دروازہ کے اور سب چراغ بجھے ہوئے ہیں سوائے اس کے چراغ کے۔ پس اس دروزاہ سے داخل ہو جسے خدا تعالیٰ نے کھولا ہے اور اس چراغ سے روشنی لوجسے اس نے جلایا ہے اور خدا کے جلال کو اپنی آنکھوں سے دیکھو اور اس کے قرب کو اپنے دلوں سے محسوس کرو۔ ہاں یہ بات یاد رکھو کہ دو کشتیوں میں پیر رکھنا کبھی کامیابی کس طرح حاصل ہوتی ہے؟ فائدہ نہیں دیتا بغیر قربانی کے کوئی ایمان نفع بخش نہیں۔ جو شخص اپنے آرام اور اپنی آسائش اور اپنے وقت اور اپنی عادات اور اپنے رسوم کو چھوڑنے کے لئے تیار نہیں ہوتا وہ کبھی کامیابی کا منہ نہیں دیکھتا اور جو شخص یہ سب کچھ کر لیتا ہے اس کو کوئی چیز تباہ نہیں کر سکتی۔ مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔ تم خدا تعالیٰ کی رضا کو ہرگز حاصل نہیں کر سکتے جب تک کہ تم اپنی خوشیاں ، اپنی لذات اپنی حیثیت اپنا مال و جان ترک نہ کردو اور اس کی راہ میں ہر ایک ایسی مشکل کا مقابلہ نہ کرو جو تمہارے سامنے موت کا نظارہ پیش کرتی ہے اور اگر تم تمام مشکلات کا مقابلہ کرو تو خداتعالیٰ تم کو ایک پیارے بچے کی طرح گود میں لے لے گا۔ اور تمہیں ان راستبازوں کا وارث بنائے گا جو تم سے پہلے گزرے اور ہر ایک برکت اور رحمت کے دروازے تم پر کھولے جائیں گے۔ دیکھو ! خدا نے یسعیاہ نبی کی پیشگوئی کے مطابق مشرق مشرق سے ایک راستباز سے ایک راستباز کو برپا کیا ہے۔ ا ہے۔ اور اس کے ذریعہ سے وہ اپنی