انوارالعلوم (جلد 8) — Page 485
انوار العلوم جلدے ۴۸۵ دورہ یورپ پرانی عادتوں کے خلاف ہیں اپنے اوپر خدا کی رحمت کے دروازوں کو بند کر لیں گے ؟ اور اس کی یگانگت کی رحمت کو رد کر دیں گے ؟ کیا قربانی کے بغیر بھی کوئی نعمت مل سکتی ہے ؟ تم ایک ہی وقت میں اپنے نفس کی ادنی خواہشوں کو پورا اور خدا تعالیٰ کو خوش نہیں کر سکتے۔ سب مذاہب اس امر پر متفق ہیں کہ خدا تعالی موت کے بعد ملتا خدا موت کے بعد ملتا ہے ہے مگر اس کا یہ مطلب ہے کہ خدا تعالی اس موت کے بعد ملتا ہے جو انسان اپنے نفس پر خدا کی خاطر وارد کر لیتا ہے۔ اے لوگو ! اس بات سے مت ڈرو کہ لوگ تم پر انگلستان کے متعلق خدا نے کیا دکھایا نہیں گے یا تم کو پاگل سمجھیں گے۔ کبھی کسی آئے نے سچائی کو ابتداء میں قبول نہیں کیا کہ اسے لوگوں نے پاگل نہیں سمجھا۔ کیا موسیٰ کے ماننے والے اور مسیح پر ایمان لانے والے پاگل نہیں سمجھے گئے ؟ مگر کیا آخر وہی پاگل دنیا کے راہنما نہیں بنے؟ میں اس خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں جس کے ہاتھ میں میری جان ہے جس پر جھوٹ بولنے والے کے متعلق تمام آسمانی کتب متفق ہیں کہ وہ ہلاک کیا جاتا ہے کہ مجھے اللہ تعالی نے دکھایا ہے کہ انگلستان کے ساحل سمندر پر کھڑا ہوں اور میرے ہاتھ پر انگلستان کی روحانی فتح ہوتی ہے۔ پس آج نہیں تو کل انگلستان مسیح موعود کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے اسلام کی طرف لوٹے گا۔ مگر مبارک وہ ہے جو اس کام میں سب سے پہلے قدم اٹھاتا ہے کیونکہ جو شخص حق کے قبول کرنے کے لئے آگے بڑھتا ہے دوسرے لوگ جو اس کے پیچھے آتے ہیں اس کے برابر نہیں ہو سکتے۔ اس کے لئے دہرا اجر ہے۔ ایمان لانے کا بھی اور دوسروں کے لئے محرک بننے کا بھی۔ پس کیا اے اہل پورٹ سمتھ ! جو ساحل سمندر پر بستے ہو اس اجر کو جو انگلستان کے شہروں میں سے کسی نہ کسی کے قبضہ میں آنے والا ہے لینے کے لئے تم آگے نہیں بڑھو گے؟ بے شک سچائی کو لوگ آہستہ آہستہ قبول کرتے ہیں مگر وہ آخر غالب آکر رہتی ہے۔ حضرت مسیح موعود سے خدا تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ جس طرح مسیح اول کے بعد تین سو سال میں مسیحیت نے غلبہ حاصل کر لیا تھا اسی طرح تین سو سال کے اندر آپ کے سلسلہ کو غلبہ حاصل ہو جائے گا مگر وہ غلبہ پہلے غلبہ - سے زیادہ مکمل ہو گا کیونکہ اُس وقت تو مسیحیت روم کا سرکاری مذہب بنی تھی لیکن اس وقت احمدیت تمام دنیا کے قلوب پر تصرف حاصل کرلے گی۔