انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 473 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 473

انوار العلوم جلدے ۴۷۳ دورہ یورپ ہونی چاہئے؟ اور وہ اس کے احکام کو اپنے اعمال پر اسی طرح حاکم بناتے ہیں جس طرح کہ ان کو حاکم بنانا چاہئے؟ اور کیا فی الواقع ان کو وہ روحانی طاقتیں حاصل ہیں جن کے ذریعہ سے انسان کے واصل باللہ ہونے کا علم ہوتا ہے ؟ میں سمجھتا ہوں کہ آپ لوگوں میں سے ہر ایک نے کم از کم بائیبل پڑھی ہو گی یا اس کے بعض حصوں کو دیکھا ہو گا آپ لوگ اس سے اندازہ کر سکتے ہیں کہ وہ لوگ جن کا بائیبل میں ذکر ہے کیا آج بھی پائے جاتے ہیں ؟ کیا آج بھی اللہ تعالیٰ ان کے لئے اس قسم کے نشانات دکھاتا ہے ؟ اگر ان باتوں میں سے کوئی بھی نہیں بلکہ دنیا خدا تعالیٰ پر ایمان سے خالی ہے دہریت کا زور ہے۔ بجائے خدا تعالیٰ سے محبت ہونے کے روپیہ اور مال اور عزت سے محبت ہے بجائے بنی نوع انسان کی ہمدردی کرنے کے لوگ ایک دوسرے کا حق مارنے کی فکر میں رہتے ہیں۔ بجائے اس کے کہ خدا تعالیٰ کسی کے ہاتھ پر نشان دکھائے خدا تعالیٰ کا اپنا وجو د ہی مخفی ہو رہا ہے۔ صرف اور صرف جسمانی لذتوں کے حصول کی فکر میں لوگ مشغول ہیں اور مذہب کے احکام کو تو ظاہری شکل کہہ کر ٹال رہے ہیں لیکن کالر اور نکٹائی اور بوٹ اور لباس کی اور بہت سی اقسام اور کھانے کے طریق وغیرہ کے متعلق اپنے خود ساختہ قوانین کی اسقدر پابندی کر رہے ہیں کہ گویا انسانی حیات کا واحد مقصد ہی وہی کام ہیں۔ ذرا سے غور سے بھی انسان معلوم کر سکتا ہے کہ آسمانی احکام کو ظاہری شکل اور قشر کہنے سے انکی یہ غرض نہیں ہے کہ ظاہری شکل اور قشر کی ضرورت نہیں بلکہ اصل غرض یہ ہے کہ خدا کے احکام کو منسوخ کر کے وہ خود قواعد بنانا چاہتے ہیں یہ انکار واقفیت قانون کا نہیں بلکہ خود قانون بنانے والے کے حق کا ہے۔ اب میں آپ لوگوں سے پوچھتا ہوں کہ کیا ان حالات میں اس بات کی ضرورت ہے یا نہیں؟ کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک تازہ پیغام بندوں کو آئے تاکہ وہ محسوس کریں کہ ان کا خدا زندہ خدا ہے اور طاقتور خدا ہے اور یہ نہیں کہ دیر تک کام کر کے تھک گیا ہے اور جنت کے کسی گوشہ میں سو رہا ہے۔ ضرورت پیغام کو ثابت کرنے کے بعد میں اصل مضمون کی طرف موجودہ زمانہ کا پیغامبر لوٹتا ہوں اور آپ کو بتاتا ہوں کہ خدا تعالٰی نے اپنے بندوں کو چھوڑا نہیں اور وہ ان کی ضروریات کو بھولا نہیں بلکہ اس نے اسی طرح اپنے ایک برگزیدہ کے ذریعہ سے دنیا کی ہدایت کے لئے پیغام بھیجا ہے جس طرح کہ اس نے نوح ابراہیم موسیٰ، داؤد مسیح، کرشن را مچندر بدھ ، کنفیوشس زرتشت اور محمد رسول اللہ ﷺ کی معرفت پیغام بھیجا