انوارالعلوم (جلد 8) — Page 472
t انوار العلوم جلدے ۴۷۲ دورہ یورپ اس نتیجہ کی تصدیق کرتا ہے کہ کوئی ملک کوئی قوم ہمیں ایسی نظر نہیں آتی جس میں الہام الہی کا خیال کسی نہ کسی وقت نہ پایا جاتا ہو اور جس میں ایسے لوگوں کا پتہ نہ لگتا ہو جو الہام کے مدعی تھے۔ ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ سب کے سب جھوٹے تھے یا سب کے سب اعصابی مرضوں کے شکار تھے۔ کیونکہ دنیا کے اخلاق اور اس کے تمدن کا نقطۂ مرکزی ہی لوگ نظر آتے ہیں اور ان کو الگ کر کے دنیا بالکل خالی نظر آتی ہے۔ قرآن کریم اس مضمون کے متعلق فرماتا ہے وَإِنْ مِنْ أُمَّةٍ إِلَّا خَلَا فِيْهَا نَذِيرُ کوئی قوم نہیں جس میں نبی نہ گذرا ہو اور یہی امر صحیح اور درست معلوم ہوتا ہے۔ وہ خدا جس نے انسان کو ایسی طاقتوں کے ساتھ پیدا کیا ہے جو اسے ترقیات کے بلند مقامات تک لے جاسکتی ہیں اس کو ایسی قوتوں کے ساتھ پیدا کر کے یونہی نہیں چھوڑ سکتا تھا اور وہ خدا جس کی نظر میں سب بنی نوع انسان ایک ہیں اور وہ سب سے یکساں محبت کرتا ہے باقی سب اقوام کو چھوڑ کر ایک قوم کو اپنی وحی سے مخصوص نہیں کر سکتا تھا اور نہ باقی سب زمانوں کو چھوڑ کر ایک زمانہ کو چن سکتا تھا۔ پس اگر ہم ایک رحیم خدا پر ایمان لائیں گے تو ساتھ ہی ہم کو یہ بھی ماننا پڑے گا کہ وہ ہر ایک زمانہ میں اپنا پیغام دنیا کی طرف بھیجتا ہے ورنہ ہم اپنے ایمان میں متضاد باتوں کو جمع کرنے والے بنیں گے۔ جب ہم اس نتیجہ پر پہنچ جائیں کہ خدا تعالیٰ موجودہ زمانہ میں پیغام آسمانی کی ضرورت ت کا کلام جب بھی اس کی ضرورت ہو نازل ہونا چاہئے تو گویا ہم خدا کے پیغام کو قبول کرنے کے مقام کی طرف ایک قدم بڑھاتے ہیں اور اپنے دل کی ایک کھڑکی کو کھول دیتے ہیں مگر ابھی ہمارے لئے ایک قدم اٹھانا اور باقی ہوتا ہے اور وہ یہ کہ کیا ہمارے زمانہ میں بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے کسی پیغام آنے کی ضرورت ہے؟ تو ضرور ہے کہ خدا تعالیٰ نے اس کو پورا بھی کیا ہو۔ اے بہنو اور بھائیو! غور کر کے دیکھو کہ خدا کے کلام اور اس کے پیغام کی کیا ضرورت ہوتی ہے؟ کیا یہی نہیں کہ لوگوں کو اس کی ذات کی نسبت کامل یقین ہو اور وہ اس کی کامل محبت اور اس کے کامل عرفان کے ذریعہ سے اپنے نفس کی اصلاح کرنے پر قادر ہوں؟ اور ایسی طاقتیں حاصل کر لیں جن کے ذریعے سے اس دنیا میں بھی اور اگلے جہان میں خدا تعالیٰ کے وصال کو پالیں جو انسانی پیدائش کی اصل غرض ہے پھر غور کرو کہ کیا یہ باتیں دنیا میں پائی جاتی ہیں ؟ کیا اس زمانہ کے لوگ فی الواقع خدا تعالیٰ پر یقین رکھتے ہیں؟ کیا ان کے دلوں میں ویسی ہی محبت ہے جیسی کہ جوان