انوارالعلوم (جلد 8) — Page 474
انوار العلوم جلدے ۴۷۴ دورہ یورپ تھا۔ اس پیغامبر کا نام احمد تھا اور جو لوگ اس پیغام کو قبول کر کے اس کی ہدایات پر عمل کرتے ہیں وہ اسی طرح خدا کے فضل کے وارث ہوتے ہیں جس طرح کہ پہلے نبیوں کے ماننے والے خدا کے ں کے وارث ہوتے رہے ہیں۔ میں اس پیغامبر کا ماننے والا اور اس کا خلیفہ ثانی : ثانی ہوں اور فضلوں اس محبت کی وجہ سے جو اس پیغمبر نے ہمارے دلوں میں بنی نوع انسان کے متعلق بھر دی ہے آپ لوگوں کو اس کا پیغام سنانے آیا ہوں۔ وہ پیغام کیا ہے ؟ میں اس کو حضرت مسیح موعود کے الفاظ ہی موجودہ زمانہ میں خدا کا پیغام میں بیان کر دیتا ہوں ۔ (1) اے سننے والو !سنو !! کہ خدا تم سے کیا چاہتا ہے۔ بس یہی کہ تم اس کے ہو جاؤ۔ اس کے ساتھ کسی کو بھی شریک نہ کرو۔ نہ آسمان میں نہ زمین میں۔ ہمارا خدا وہ خدا ہے جو اب بھی زندہ ہے جیسا کہ پہلے زندہ تھا اور اب بھی وہ بولتا ہے جیسا کہ وہ پہلے بولتا تھا۔ اور اب بھی وہ سنتا ہے جیسا کہ پہلے سنتا تھا۔ یہ خیال خام ہے کہ اس زمانہ میں وہ سنتا تو ہے مگر بولتا نہیں بلکہ وہ سنتا اور بولتا بھی ہے۔ اس کی تمام صفات ازلی ابدی ہیں کوئی صفت بھی معطل نہیں اور نہ کبھی ہوگی۔ وہ وہی واحد لا شریک ہے جس کا کوئی بیٹا نہیں اور جس کی کوئی بیوی نہیں۔ ۲۳ (۲) ” میں تمہیں سچ سچ کہتا ہوں کہ وہ آدمی ہلاک شدہ ہے جو دین کے ساتھ کچھ دنیا کی ملونی رکھتا ہے اور اس نفس سے جہنم بہت قریب ہے جس کے تمام ارادے خدا کے لئے نہیں ہیں بلکہ کچھ خدا کے لئے اور کچھ دنیا کے لئے۔ پس اگر تم دنیا کی ایک ذرہ بھی ملونی اپنے اغراض میں رکھتے ہو تو تمہاری تمام عبادتیں عبث ہیں۔ اس صورت میں تم خدا کی پیروی نہیں کرتے بلکہ شیطان کی پیروی کرتے ہو۔ تم ہر گز توقع نہ کرو کہ ایسی حالت میں خدا تمہاری مدد کرے گا بلکہ تم اس حالت میں زمین کے کیڑے ہو اور تھوڑے ہی دنوں تک تم اس طرح ہلاک ہو جاؤ گے جس طرح کہ کیڑے ہلاک ہوتے ہیں۔ اور تم میں خدا نہیں ہو گا بلکہ تمہیں ہلاک کر کے خدا خوش ہو گا۔ لیکن اگر تم اپنے نفس سے در حقیقت مرجاؤ گے تب تم خدا میں ظاہر ہو جاؤ گے اور خدا تمہارے ساتھ ہو گا۔ اور وہ گھر با برکت ہو گا جس میں تم رہتے ہوگے اور ان دیواروں پر خدا کی رحمت نازل ہوگی جو تمہارے گھر کی دیواریں ہیں اور وہ شہر بابرکت ہو گا جہاں ایسا