انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 382 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 382

انوار العلوم جلد ۸ ۳۸۲ دورہ یورپ کام میں لگ جائیں گے تو دوسرے کام کرنے والوں کی نگرانی نہیں کر سکیں گے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مرکزی کارکنوں کو صرف نگرانی کا کام کرنا چاہئے جزئی کاموں میں حصہ نہیں لینا چاہئے۔ یہ بات اور محکموں کے متعلق بھی درست ہوتی ہے مگر خلافت کے متعلق تو بہت ہی درست ہے۔ میں اپنے تجربہ کی بناء پر جانتا ہوں کہ خلافت ایک مردم بخش عہدہ ہے ۔ اس کا کام اس قدر بڑھا ہوا ہے کہ اگر خدا تعالیٰ کا فضل اس کے ساتھ نہ ہو تو یقینا ایک قلیل عرصہ میں اس عہدہ پر متمکن انسان ہلاک ہو جائے مگر چونکہ خدا تعالٰی اس عہدہ کا نگران ہے وہ اپنے فضل سے کام چلا دیتا ہے۔ غرضیکہ وعظوں اور لیکچروں کے لئے باہر جانا خواہ وہ کسی عظیم الشان مذہبی کا نفرنس کی دعوت ہی پر کیوں نہ ہو خلفاء کے کام کے خلاف بلکہ مشکلات پیدا کرنے کا موجب ہے کیونکہ ہو سکتا ہے کہ آئندہ امریکہ جاپان و غیرہ ممالک میں مذہبی کانفرنسیں ہوں اور وہاں کے لوگ دعوت دیں۔ اگر وہاں بھی جاویں تو ایک لامتناہی سلسلہ شروع ہو جاتا ہے اور اگر نہ جاویں تو قومی تعصب کی وجہ سے ان ملکوں کے لوگ اس کو اپنی ہتک خیال کریں گے اور تبلیغ سلسلہ میں رکاوٹ پیدا ہو گی۔ مغربی ممالک کے لوگ قومی عزت کا اس قدر احساس رکھتے ہیں کہ جن امور کو ہم لوگ بالکل معمولی خیال کرتے ہیں وہ اسے اپنی زندگی اور موت کا سوال سمجھ بیٹھتے ہیں۔ پس میں مذہبی کانفرنس کی دعوت کے جواب میں جانے کے مخالف ہوں اور اس امر میں جو لوگ نہ جانے کا مشورہ دیتے ہیں ان سے متفق ہوں۔ اسی طرح میں اس امر کا بھی قائل نہیں ہوں کہ ایک ایسے سفر کے نتیجہ کے متعلق خیال مخفر سفر کے نتیجہ میں کسی عظیم الشان فتح کی امید کی جائے۔ یورپ کے لوگ تو ہم سے ہر بات میں مختلف ہیں اور مذہب اور تمدن اور اخلاق اور عادات غرض کسی بات میں ہم سے نہیں ملتے۔ لاہور اور دہلی حضرت مسیح موعود کو بھی جانے کا اتفاق ہوا ہے اور مجھے بھی۔ ان مقامات پر ہمارے چند روزہ قیام سے کونسا غیر معمولی تغیر پیدا ہو گیا۔ نہ ہزاروں آدمی سلسلہ میں داخل ہو گئے نہ لوگوں کے خیالات میں کوئی نمایاں تبدیلی ہوئی۔ رسول کریم ال مختلف قوموں کے وفود سے تیرہ سال تک ملتے رہے اور انہوں نے کوئی اثر قبول نہ کیا۔ پس جب اپنے ہم قوم جو بیسیوں باتوں میں ہم سے متفق ہیں اس قدر جلدی متاثر نہیں ہوتے بلکہ ایک لمبی صحبت اور بار بار کی صیقل کے محتاج ہوتے ہیں تو اس قدر روحانی بعد رکھنے والے لوگ کب ظاہری سامانوں کو دیکھتے ہوئے چند دن کی صحبت اور لیکچر سے اس قدر متاثر ہو سکتے ہیں