انوارالعلوم (جلد 8) — Page 381
انوار العلوم جلد ۸ ۳۸۱ دورہ یورپ ارادہ ہے کہ رسول کریم رسول کریم کی ایک پیشگوئی پورا کرنے کا ارادہ کی اس پیشگوئی کو جو مسیح موعود کے زمانہ کے متعلق ہے اور جس کی تاویل حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ فرمائی ہے کہ مسیح موعود یا اس کا کوئی خلیفہ دمشق کو جائے گا اس سفر میں پورا کرنے کی کوشش کی جائے اور راستہ میں چند دن کے لئے دمشق بھی ٹھرا جائے۔ گو اس کے لئے اپنے راستہ سے ہٹ کر جانا ہو گا مگر چونکہ ایسے مواقع روز بروز نہیں مل سکتے اس لئے جہاں تک ہو سکے اس سفر سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرنی ضروری ہے اور سلسلہ کی صداقت کا ایک نشان قائم کرنا تو عین سعادت مندی ہے۔ اس کے بعد میں احباب کو اس امر کی طرف توجہ دلانا خلیفہ کا مرکز میں رہنا ضروری ہے چاہتا ہوں کہ بعض احباب نے اپنے مشورہ کی بناء اس امر پر رکھی ہے کہ مذہبی کانفرنس نے چونکہ بلایا ہے اس لئے وہاں ضرور جانا چاہئے اور یہ خیال کیا ہے کہ گویا اس سفر کے ساتھ ہی یورپ فتح ہو جائے گا اور ہزاروں لاکھوں آدمی اسلام میں داخل ہو جائیں گے ۔ میرے نزدیک اس امر پر اور اس امید پر مشورہ دینا درست نہ تھا۔ میں نے پہلے بھی بارہا بیان کیا ہے کہ خلیفہ دورہ کرنے والا واعظ نہیں کہ وہ جس جگہ لیکچر دینے کی ضرورت ہو وہاں جائے ۔ وہ ایک سپاہی نہیں کہ لڑنے کے لئے جائے بلکہ ایک کمانڈ رہے جس نے سپاہیوں کو لڑوانا ہے۔ کسی مذہبی کانفرنس کی درخواست پر اس کا باہر جانا یا محض لیکچر دینے کے لئے اس کا مرکز سے نکلنا درست نہیں۔ یہی طریق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا تھا اور یہی آپ سے پہلے امت محمدیہ کے خلفاء کا رہا ہے ۔ پس میں طبعاً اس خیال کے مخالف ہوں کہ کسی مذہبی کا نفرنس کے بلاوے پر مرکز کو چھوڑوں ۔ ایک دوست نے خوب لکھا ہے کہ اگر اگلے سال اس سے بڑی مذہبی کا نفرنس ہو گئی تو پھر کیا ہم اپنے خلیفہ سے درخواست کریں گے کہ وہ اب وہاں جائے ۔ یہ بات بالکل درست ہے مذہبی کا نفرنسیں تو ہر سال ہو سکتی ہیں اور لوگوں کی توجہ اگر مذہب کی طرف پھر جائے تو بہت بڑے بڑے پیمانوں پر ہو سکتی ہیں مگر ان کی وجہ سے خلیفہ وقت اپنے مرکز کو نہیں چھوڑ سکتا ورنہ اس کے لئے مرکز میں رہنا مشکل ہو جائے گا۔ ایک مشہور جر من مدبر فلاسفر کا یہ قول مجھے نہایت پسند ہے اور بہت ہی سچا معلوم ہوتا ہے کہ ہر کام کے افسروں کو بالکل کام سے الگ اور فارغ رہنا چاہئے تاکہ وہ یہ دیکھتے رہیں کہ کام کرنے والے فارغ نہیں ہیں ۔ اگر وہ خود