انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 383 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 383

انوار العلوم جلد ۸ ۳۸۳ دورہ یورپ کہ فوراً سینکڑوں ہزاروں کی تعداد میں جماعت میں داخل ہو جائیں۔ غیر معمولی تغیرات خدا کی مشیت کے ماتحت ہوتے ہیں میں اس امر کا منکر نہیں کہ بھی ہوتے ہیں مگر وہ کسی انسان کی صحبت یا کسی لیکچر سے نہیں ہوتے بلکہ خدائے قادر کے زبردست ہاتھ سے ہوتے ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام دہلی اور لاہور اور لدھیانہ کئی کئی ہفتے رہے مگر وہاں کوئی اثر نہ ہوا لیکن جہلم کا سفر جو ایک مقدمہ کی وجہ سے پیش آیا تھا اس سے پہلے خدا تعالیٰ کی طرف سے الہام ہوا کہ تو اس سفر میں خدا کی نصرت دیکھے گا اور تین دن کے سفر میں گیارہ سو آدمیوں نے بیعت کی۔ پس ایسے تغیرات تو پیدا ہوتے ہیں مگر وہ اللہ تعالی کی مشیت سے ہوتے ہیں نہ کہ کسی بڑے یا چھوٹے انسان کے جانے سے اور ہم اللہ تعالیٰ کی مشیت پر حاکم نہیں کہ خود ہی فیصلہ کرلیں کہ وہ ضرور یوں ہی چاہے گا اس لئے ہمیں فلاں کام کر لینا چاہئے ۔ پس ہمیں اس امید پر بھی اپنے مشورہ کی بنیاد نہیں رکھنی چاہئے۔ اگر اللہ تعالیٰ کی یہ مشیت ہے کہ وہ اس وقت کوئی نشان دکھائے تو خود بخود کفر کی دیواریں ٹوٹنی شروع ہو جائیں گی ورنہ بظاہر حالات چند ہفتوں کی رہائش میں ایک شخص کا ہدایت پا جانا بھی ایک بہت بڑا کام معلوم ہوتا ہے۔ خدا غربی ممالک میں عظیم الشان تغیر ہو گا مغربی ممالک میں کوئی عظیم الشان تغیر پیدا کرنے کا ہے رسول کریم ﷺ کی پیشگوئی مغرب سے سورج کے نکلنے کی اس پر دلالت کرتی ہے۔ حضرت مسیح موعود کی رؤیا کہ مغربی ممالک کے لوگ اس جماعت میں خاص طور پر داخل ہوں گے اس پر شاہد ہے اور میں نے بھی دور و یا دیکھی ہیں جن کو میں اس تجویز سے بہت پہلے سنا چکا ہوں وہ بھی مغرب میں ہماری فتح پر دلالت کرتی ہیں۔ تغیرات یورپ کے متعلق ایک دو یا چنانچہ پلی رویا ت کوئی تین چار سال ک ہے یا اس تو کی رویا سے بھی زیادہ عرصہ کی جسے میں نے اس وقت رویا قادیان کے دوستوں کو سنا دیا تھا۔ اس رویا میں میں نے دیکھا کہ میں لنڈن میں ہوں اور ایک ایسے جلسہ میں ہوں جس میں پارلیمنٹ کے بڑے بڑے ممبر اور نواب اور وزراء اور دوسرے بڑے آدمی ہیں۔ ایک دعوتی قسم کا جلسہ ہے اس میں میں بھی شامل ہوں مسٹر لائیڈ جارج کے سابق وزیر اعظم اس میں تقریر کر رہے ہیں۔ تقریر کرتے کرتے ان کی حالت بدل گئی اور انہوں نے ہال