انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 4 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 4

انوار العلوم جلد ۸ تائید دین کا وقت ہے میں نے اس وقت تک ان تبلیغی کوششوں میں حصہ لینے والے احباب کے لئے یہ شرط رکھی تھی کہ وہ کم سے کم سو روپیہ دیں تب اس فنڈ میں شامل ہو سکتے ہیں اور اس وقت تک ایسے ہی لوگ اس میں چندہ دیتے رہے ہیں جو سو روپیہ دے سکتے تھے مگر چونکہ ایسے لوگ کم ہوتے ہیں اب اس فنڈ کی آمد بہت محدود ہوتی جا رہی ہے اور ضرورت ہے کہ اب اس دروازہ کو اور وسیع کر دیا جائے۔ ہماری جماعت کے احباب کے دلوں میں جو اخلاص اللہ تعالی نے کوٹ کوٹ کر بھر دیا ہے اس کو دیکھتے ہوئے اس امر کا اندازہ کرنا کچھ مشکل نہیں کہ اس سو روپیہ کی شرط کی وجہ سے ہزاروں مخلصین کے دل زخمی تھے اور ان کے جوش اندر ہی اندر اٹھ اٹھ کر رہ جاتے تھے کیونکہ گو ان کے دل وسیع تھے لیکن ان کی جیبوں میں روپیہ نہ تھا اس لئے وہ اس شرط کو پورا نہیں کر سکتے تھے میں جانتا ہوں کہ اگر یہ سو روپیہ کی شرط نہ ہوتی یا ان کے پاس روپیہ ہو تا تو ہزاروں مخلص ہماری جماعت کے ایسے ہیں جو چندہ دینے والوں کی صف اول میں کھڑے ہوتے اور کبھی بھی دوسروں سے پیچھے رہنے کو گوارا نہ کرتے ۔ مگر اللہ تعالیٰ ان کی مجبوریوں کو دیکھتا ہے اور ہر ایک شخص جس کا دل چاہتا تھا نہیں بلکہ اپنی مجبوری کو دیکھ کر اندر ہی خون ہو رہا تھا لیکن صرف مجبوری کی وجہ سے اب تک اس تحریک میں حصہ نہیں لے سکا وہ خدا کے حضور مین ویسا ہی ہے جیسا کہ وہ جس نے بوجہ مقدرت ہونے کے سو روپیہ دینے والوں کی جماعت میں شمولیت اختیار کی ۔ اللہ تعالٰی کے خزانہ میں ثواب اور مدارج کی کمی نہیں وہ ان مخلصین کو جنہوں نے اپنی مقدرت سے زیادہ بوجھ اٹھایا اور دین کی خدمت کی ان کے کام کا پورا بدلہ دے گا اور ان کو بھی جن کے دل چاہتے تھے لیکن عدم استطاعت کی بیڑیاں ان کے پاؤں میں تھیں انہی کا سا بدلہ دے گا۔ اور میں یقین رکھتا ہوں کہ ہماری جماعت کے سو روپیہ دینے والے دوست اپنے بھائیوں کے اس مفت کے ثواب پر چڑیں گے نہیں بلکہ خوش ہوں گے اور میں اپنی طرف سے تو کہتا ہوں کہ ایسے دوست جتنے بھی زیادہ ہوں ان کا خیال اور قیاس میرے دل کو خوشی سے بھر دیتا ہے ۔ مگر اللہ تعالیٰ ان دوستوں کو صرف ثواب سے ہی حصہ دینا نہیں چاہتا بلکہ وہ ان کے دل کی حسرت کو بھی دور کرنا چاہتا اور اس کی جگہ خوشی کی لہر پیدا کرنا چاہتا ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ ملکانا تحریک اس قدر لمبی ہو گئی ہے کہ اب ضرورت محسوس ہو رہی ہے کہ تمام جماعت کو اس میں حصہ لینے کا موقع دیا جائے اور تمام بھائیوں کو اس خدمت میں شریک کر لیا جائے ۔ اور اگر میں احمدیوں