انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 5 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 5

انوار العلوم جلد ۸ تائید دین کا وقت ہے کے ولی خیالات پڑھنے میں غلطی نہیں کرتا تو میں سمجھتا ہوں کہ میں اس اعلان کے ذریعہ سے ان کو ایک بہت بڑی خوشخبری سنا رہا ہوں جس کے لئے وہ مدت سے چشم براہ تھے ۔ علاوہ ملکانا تحریک اور ہندوؤں میں تبلیغ کی تحریک کے جرمن مشن ، بخارا مشن ، اچھوت قوموں میں تبلیغ اور ان کی تعلیم کے اخراجات ایسے ہیں جو معمولی چندوں سے پورے نہیں ہو سکتے اور ان کے لئے بھی خاص چندہ کی ضرورت ہے ۔ اسی طرح اس سال جلسہ گاہ کی تیاری مهمان خانه اخانہ کی وسعت اور افریقہ کی جماعت کو جو اب بیس ہزار کے قریب پہنچ پہنچ گے گئی ہے تین ہزار کے ریب روپیه بطور امداد دینا ضروری ہے تاکہ وہ ایک سکول اور لیکچر گاہ تیار کریں۔ ایک قیمتی زمین سرکار کی طرف سے مفت ملی ہے اور بہت سا روپیہ وہ خود جمع کریں گے ۔ تالیف قلب کے لئے اور ہندوستانی بھائیوں کی ہمدردی کے اظہار اور تعلقات کی مضبوطی کے لئے ان کو تین ہزار روپیہ مرکز کی طرف سے دیا جائے گا۔ مولوی عبید اللہ صاحب مرحوم کے پس ماندگان کی واپسی کا سوال بھی درپیش ہے ۔ ان تمام ضرورتوں کے لئے چالیس ہزار کے قریب روپیہ کی علاوہ ماہواری چندوں کے ضرورت ہے اور میں جانتا ہوں کہ ہماری جماعت کے مخلصین اس رقم کو بآسانی پورا کر سکتے ہیں۔ میں جانتا ہوں کہ ہماری جماعت غریب ہے لیکن مال خرچ کرنے میں آسانی مال کی زیادتی سے نہیں ہوتی بلکہ دل کی وسعت سے ہوتی ہے اور یہ وسعت خدا تعالیٰ کے فضل سے ہماری جماعت کو حاصل ہے۔ چونکہ میرا دل چاہتا ہے کہ تمام احباب اس تحریک میں یکساں حصہ لیں اس لئے میں نے اس رقم کے جمع کرنے کے لئے ایک تجویز کی ہے اور میں یقین رکھتا ہوں کہ اس تحریک پر عمل کر کے ہماری جماعت کے دوست اس رقم کو بہت جلد پورا کر سکتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ تمام احمد ی علاوہ ماہوار چندوں کے اپنی ماہوار آمد کا ایک تہائی حصہ اس سال ان ضروریات کو پورا کرنے کے لئے یکمشت دے دیں۔ ان علاقوں میں جہاں مرقعے ہیں یہ انتظام کیا جائے کہ ہر زمیندار علاوہ اپنے مقررہ چندہ کے فی مربع پچیس روپیہ اس تحریک میں دے اور کل زمیندار اپنے حصہ کی رقم کو دو فصلوں میں بھی ادا کر سکتے ہیں۔ جو لوگ ماہوار آمدنی رکھتے ہیں وہ بھی ایک مہینہ سے لے کر تین مہینے تک اپنے حصہ کی رقم پوری کر سکتے ہیں ۔ جو لوگ سو روپیہ پہلے دے چکے ہیں میں ان کو بھی اس تحریک سے مستثنیٰ نہیں کرتا کیونکہ اول تو اس تحریک میں علاوہ ملکا نا فنڈ کے اور تحریکیں بھی شامل ہیں اور دوسرے جن کو خدا نے زیادہ