انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xxvii of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page xxvii

۲۰ ممالک میں ایک ملین (دس لاکھ) کے قریب لوگ آپ کو قبول کر چکے ہیں۔ اور اس کے لئے انہوں نے محیر العقول قربانیاں پیش کی ہیں۔ حضور نے فرمایا میں نے خود اس پیغام کی بدولت الہی کلام سنا اور اللہ تعالیٰ نے میری مدد کی اور مجھے پیش خبریاں دیں جو پوری ہو ئیں یہ چیز میری طرح ہر شخص حاصل کر سکتا ہے۔ حضور نے انگریز سامعین کو مخاطب کر کے فرمایا کہ آپ کے پیغام کے مقابل میں دنیاوی فوائد ترک کر کے خدا تعالیٰ کی رحمت حاصل کرو۔ آ آپ نے اہل پورٹ سمتھ کو بتایا کہ خدائی خبر کے مطابق آپ کے ہاتھ پر انگلستان کی روحانی فتح ہوگی۔ اس لئے انہیں اس سلسلہ میں پہل کر کے اس ہدایت کو قبول کرنا ۔ کرنا چاہئے۔ آپ نے پ نے فرمایا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ہزاروں پیش گوئیوں میں سے جو پوری ہو چکی ہیں ایک یہ ہے کہ انگلستان میں آپ کی تعلیم پھیلنی شروع ہو گئی ہے۔ آج مسیح موعود علیہ السلام ہی لقائے الہی کا یقینی ذریعہ ہیں۔ آپ نے بتایا کہ یسعیاہ نبی نے بھی مشرق سے ایک راستباز کے برپا ہونے کی پیش گوئی کی تھی اور آپ ہی اس کے مصداق ہیں۔ پس اب یہ آپ لوگوں کا فرض ہے کہ خدا کے اس فرستادہ کے پیغام کو قبول کر کے خدا کے ان راستباز بندوں میں شامل ہو جاؤ جو دوسروں کے بھی ایمان لانے کا محرک بنتے ہیں۔ اپنے اس نہایت مؤثر اور پُر شوکت خطاب کے آخر پر آپ نے سامعین کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا۔ کیا میں امید کروں کہ تم اس کو دلی شوق سے قبول کرو گے اور اس کے پیغام کیلئے مغربی ممالک میں پہلے جھنڈا بردار ہو گے اور میں تم کو اس علم کے ماتحت جو خدا نے مجھے دیا ہے یقین دلاتا ہوں کہ سب قومیں تم سے برکت پائیں گی اور آئندہ آنے والی نسلیں تم پر برکت بھیجیں گی اور تم خدا میں ہو کر غیر فانی ہو جاؤ گے۔" اسلام ہی سچا اور عالمگیر مذہب ہے جو دین فطرت ہے۔ خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں یہ اصول بتایا ہے کہ وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا یعنی جو لوگ ہم میں ہو کر کوشش کرتے ہیں ہم ضرور ان پر اپنی راہوں کو کھول دیتے ہیں۔"