انوارالعلوم (جلد 8) — Page xxviii
۲۱ ہندوستانی طلباء کا ایڈریس اور اس کا جواب ۱۵ ستمبر ۱۹۲۴ء کو حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے ہندوستانی طلباء کی چائے کی دعوت میں شرکت فرمائی اس موقع پر ہندوستانی طلباء نے اپنے ایڈریس میں آپ کی تشریف آوری کا شکریہ ادا کیا نیز بتایا کہ آج یورپ عالمگیر مذہب کی تلاش میں ہے۔ نیز یہ کہ یورپ میں صداقت مذہب کیلئے بہت بڑی تلاش ہے۔ اس کا جواب دیتے ہوئے حضور نے فرمایا کہ ۔ آپ نے جن خواہشات کا اظہار کیا ہے ان کی روح کے ساتھ مجھے ہمدردی اور اتفاق ہے۔" آپ نے اسلام کا تعارف کرواتے ہوئے فرمایا ۔ اسلام کی سچائی عقل اور تجربہ سے ثابت ہے اگر اسلام کو اصلی صورت میں پیش کیا جائے تو وہ ساری دنیا میں پھیلے گا۔ قرآن شریف میں پیشگوئی ہے ۔ هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِيْنِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ- آپ نے فرمایا کہ ہماری غرض یہی ہے کہ اسلام کا سچا چہرہ دنیا کو دکھایا جائے اور یہ بھی کہ ہم تو اشاعت اسلام کیلئے پیدا ہوئے ہیں۔“ آخر میں آپ نے فرمایا کہ :۔ ”کوئی شخص کبھی یہ ثابت نہیں کر سکتا کہ ہم نے گورنمنٹ سے کبھی کسی قسم کا فائدہ اٹھانے کی خواہش کی ہو۔" مولوی نعمت اللہ خان صاحب کی عظیم قربانی حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ابھی لندن میں ہی قیام فرما تھے کہ آپ کو افغانستان میں مولوی نعمت اللہ خان صاحب کی شہادت کی خبر ملی۔ حضور نے مختلف ممالک کے سفراء و حکام کو حکومت افغانستان کی طرف سے مذہب کے نام نام پر ہونے والے اس ظلم سے آگاہ کیا۔ آپ کا ایک مضمون ۲۵۔ اکتوبر ۱۹۲۴ء کے الفضل میں شائع ہوا جس میں آپ نے اس بہیمیت و درندگی کے متعلق تفصیل سے اپنے خیالات کا اظہار فرماتے ہوئے بتایا کہ افغان حکام مختلف مواقع پر