انوارالعلوم (جلد 8) — Page xxvi
ور مطابق ہے اس لئے اِنْشَاءَ اللهُ تَعَالٰی نمایاں طور پر کامیاب ہو گا۔ فرماتے ہیں: حضرت مسیح موعود کی رویا سے مراد بھی ان کے جانشین کے انگلستان جانے سے تھی۔ اور میری رویا سے مراد بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ولایت جانے سے تھی۔ پس جب کہ مسیح موعود اپنے روحانی جانشین کے ذریعہ سے انگلستان پہنچ گئے تو اب انشاء اللہ اس فتح کا دروازہ بھی کھول دیا جائے گا جو کہ ہمیشہ سے مقدر ہے۔" پھر حضور نے حضرت مولوی نعمت اللہ صاحب کی افغانستان میں شہادت کا واقعہ بیان کر کے فرمایا کہ ان کی یہ قربانی معمولی بات نہیں۔ جماعت کو ان لوگوں کی یاد کو تازہ رکھنا چاہئے تا کہ تمام افراد جماعت کے دلوں میں قربانی کیلئے جوش پیدا ہو ۔ پیغام آسمانی سیدنا حضرت ا المصلح الموعود خلیفة المسیح الثانی نے اپنے انگلستان کے دوران دوره ۱۴ ستمبر ۱۹۲۴ء کو پورٹ سمتھ کے مقام پر ایک لیکچر دیا جو " پیغام آسمانی" کے نام سے شائع ہوا۔ حضرت مصلح موعود نے اپنے لیکچر کے شروع میں متی باب ۱۲ آیت ۳۲٬۳۱ کے حوالہ سے سامعین کو بتایا کہ ہر زمانہ میں نبی کے ذریعہ جو الہی پیغام آیا اس کا انکار کرنے والوں کو سزا ملتی رہی ہے چونکہ ہر زمانہ میں اللہ تعالیٰ اپنا پیغام بھیجتا رہا ہے جیسا کہ قرآن مجید میں کہتا ہے وَإِنْ مِنْ أُمَّةٍ إِلَّا خَلَا فِيهَا نَذِيرٌ یعنی ہر قوم میں نبی آیا اور آج لوگوں کے دلوں میں الہی محبت کی بجائے مادی محبت ہے اس لئے دنیا کو آج بھی ایسے ہی پیغام کی ضرورت ہے۔ حضرت المصلح الموعود نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کے متعدد حوالہ جات دے کر ان سے آٹھ ایسے امور کا استنباط کیا جو آ۔ کیا جو آپ کے پیغام کی عظمت پر دلالت کرتے ہیں۔ حضور نے فرمایا ۔ ماضی کی طرح آج بھی لقائے الہی کیلئے نشانات کی ضرورت ہے۔ الہی ہدایت کی خواہش کے پیش نظر ہی آج ہزاروں Spiritual سوسائٹیاں قائم ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ہمیں بتایا کہ خدا خود ہمیں ہدایت دینا چاہتا ہے اور اس سے تعلق ممکن ہے مگر اس کیلئے بعض شرائط کا پورا کرنا ضروری ہے۔ آپ کے ذریعہ ہزاروں انسانوں نے اللہ تعالیٰ سے عملاً تعلق قائم کیا۔ آپ کے پیغام پر تمام مذہبی اور دنیاوی طاقتوں نے مخالفت کی تاہم اب ۵۰