انوارالعلوم (جلد 8) — Page 213
انوارالعلوم جلد ۸ ۲۱۳ احمدیت یعنی حقیقی اسلام ڈال کر ان کو ٹھنڈا کر دیتی ہے۔ ایک سال نہیں دو سال نہیں متواتر پانچ سال تک قادیان میں طاعون پڑی اور ان سالوں میں پڑی جبکہ وہ ہندوستان میں فی ہفتہ تمیں میں چالیس چالیس ہزار آدمی کو لقمہ اجل بنا لیتی تھی مگر آپ کے مکان کے ارد گرد گھوم کر چلی جاتی تھی۔ کبھی اس مکان کے کسی بسنے والے پر اس نے حملہ نہیں کیا حالانکہ اس پیشگوئی کی وجہ سے آپ کی جماعت کے کئی خاندان مدان طاعون کے دنوں میں اس حفاظت سے حصہ لینے کے لئے آپ کے گھر میں آکر بس جاتے تھے ۔ اور اس کی آبادی اس قدر بڑھ جاتی تھی کہ غیر وبائی دنوں میں بھی اس قدر آبادی نقصان کا موجب ہوتی ہے کجا یہ کہ وباء کے دن ہوں۔ یہ وہ نشان مالکیت ہے جو آپ نے دنیا کے سامنے پیش کیا اور جس کے ذریعہ سے آپ نے ہر اک شخص سے جو تعصب سے خالی ہو کر سوچے منوالیا کہ ایک کامل الصفات خدا ہے اور اس کا قرب بندے کو حاصل ہو سکتا ہے ۔ , ایک اور مثال مالکیت کی قسم کے نشان کی وہ ہے جو خود مغربی ممالک میں ظاہر ہوتی ہے ۔ امریکہ کا رہنے والا ایک شخص ڈوئی نام تھا۔ اس شخص نے دعوی کیا تھا کہ میں مسیح کی آمد ثانی کے لئے بطور ایلیا کے ہوں۔ اس کے دعوی کی مقبولیت اس قدر بڑھ گئی کہ کئی لاکھ آدمی اس کے ساتھ مل گیا اور اس نے شکاگو کے پاس ایک الگ شہر بنایا جس کا نام اس نے زائن رکھا۔ اس میں سے اس کا خیال تھا کہ نئے دین کی اشاعت ہوگی ۔ اس شخص کا یہ دعوی تھا کہ اس کی دعا بلکہ چھو دینے سے بیمار اچھے ہو جاتے ہیں اور وہ لوگوں کو دواؤں کے استعمال سے روکتا تھا۔ جب اس شخص کا دعوی کسی قدر پھیلا تو اس نے اعلان کیا کہ خدا نے اسے اس امر کے لئے بھیجا ہے کہ تا مسیح کے آنے سے پہلے مسلمانوں کو برباد کر دے ۔ جب اس کا لیکچر حضرت مسیح موعود کو سنایا گیا تو آپ نے اسے چیلنج دیا کہ تجھ کو یہ دعوی ہے کہ تو اسلام کے برباد کرنے کے لئے کھڑا ہے اور مجھے یہ دعوی ہے کہ میں اسلام کی حمایت اور اس کو ترقی دینے کے لئے مبعوث ہوا ہوں پس چاہئے کہ مجھ سے دعا میں مقابلہ کرکے فیصلہ کرے کہ کون سچا ہے اور کون جھوٹا ہے تا خدا کا عذاب جھوٹے کو پکڑے اور دوسروں کے لئے حجت ہو ۔ ۱۲۶۔ اب یہ ایک صاف بات ہے کہ اگر خدا واقع میں دنیا کا مالک ہے اور وہ ایک شخص کو اس لئے نازل کرتا ہے کہ تاوہ اس کے باغ کی حفاظت کرے اور ایک شخص اپنے طور پر آجاتا ہے اور اس خادم سے بحث کرتا ہے کہ نہیں اس باغ کا رکھوالا تو اس نے مجھے مقرر کیا ہے تو اس کی صفت ی مالکیت کا تقاضا ہونا چاہئے کہ وہ اپنے بھیجے ہوئے خادم ئے خادم کی مدد کرے اور دنیا کو بتائے کہ مالک کا