انوارالعلوم (جلد 8) — Page 212
انوار العلوم جلد ۸ ۲۱۲ احمدیت یعنی حقیقی اسلام کو اس کی صفائی کا بالکل خیال نہیں ۔ اس کی گلیوں کی بری حالت کا اندازہ بھی یورپ و امریکہ کے رہنے والے نہیں کر سکتے ۔ اس کی حالت ان شام کے قصبات سے ہرگز کم نہیں جہاں کہ عرصہ دراز سے طاعون اپنا گھر بنائے ائے ہوئے ہے۔ آپ کا گھر بھی شہر سے باہر رے باہر نہیں بلکہ شہر کے اندر تھا آپ کے مکان کے چاروں طرف لوگوں کے مکانات تھے تھے پس خاص صفائی یا کھلی ہوا کی طرف بھی آپ کے گھر کی حفاظ حفاظت منسوب نہیں کی جاسکتی۔ آپ کا گھر باقی حصہ قصبہ سے نشیب میں ہے اور نصف شہر کی گندی نالیاں آپ کے مکان کے ارد گرد سے گزرتی ہیں یں اور پاس ہی پچاس گز کے فاصلہ پر ایک تالاب تھا جس میں برسات کا پانی سال کے اکثر حصہ میں سڑتا رہتا تھا میں تھا اس لئے کہتا ہوں کہ اب تالاب کا بیشتر حصہ بھرتی ڈال کر پُر کر دیا گیا ہے اور تالاب فاصلہ پر ہو گیا ہے) ایسے مقام اور ایسے گردو پیش میں رہنے والے شخص کا اس قدر بڑا دعویٰ کوئی معمولی بات نہ تھی۔ یہ دعوی اگر معمولی رنگ میں بھی پورا ہوتا تو یقیناً خداتعالی کے مالک ہونے کی ایک زبردست دلیل ہو تا مگر خداتعالیٰ نے اس نشان کو ایک زبردست نشان کرنے کے لئے ایسے سامان پیدا کر دیئے کہ انہوں نے اس کی شان کو بہت ہی بڑھا دیا ۔ اس الہام کے شائع ہونے سے پہلے قادیان میں طاعون نہ آئی تھی اگر اسی طرح طاعون کا زمانہ گزر جاتا تو لوگ کہہ سکتے تھے کہ شاید اس علاقہ کی کوئی خصوصیت ہو گی کہ وہاں طاعون کے جرم نشو و نما نہ پاتے ہوں اور اس امر کو دیکھ کر آپ نے دعویٰ کر دیا ہو مگر ادھر اس الہام کی اشاعت ہوئی ادھر خدا تعالیٰ نے طاعون کو قادیان میں بھیج دیا اور ایک سال نہیں دو سال نہیں متواتر چار پانچ سال قادیان پر طاعون کا حملہ ہوتا رہا۔ طاعون کے حملہ کی صورت بھی اگر طاعون دوسرے علاقہ میں رہتی لیکن آپ کے محلہ میں نہ آتی تو امر تو امر مشتبہ رہتا کیونکہ پھر بھی یہ خیال ہو سکتا تھا کہ شاید کوئی خاص انتظام صفائی کا کر لیا گیا ہو مگر طاعون اس محلہ میں بھی آئی جس میں آپ کا مکان تھا پھر اور قریب ہوئی اور آپ کے مکان کے دائیں اور بائیں جو مکان تھے ان میں دیوار به دیوار طاعون نے نے حملہ کیا دائیں کیا باتیں کیا آگے کیا؟ آگے کیا پیچھے کیا مگر آپ کے بھی آئی پہلو بہ پہلو بہ پہلو دیوا گھر کو بالکل چھوڑ کر چلی گئی ۔ اور آدمی تو الگ رہے کوئی چوہا تک اس کی زد میں نہ آیا گویا اس نظارہ کی مثال اس گھر کی سی تھی جو چاروں طرف سے مکانوں میں گھرا ہوا ہو اور ان کو آگ لگ جائے وہ تمام جل کر راکھ ہو جائیں مگر وہ مکان بیچ میں سے سلامت بچ جائے اور شعلے جس وقت اس کے قریب پہنچیں خود بخود بجھ جائیں اور یہ معلوم ہو کہ کوئی طاقت بالا ان پر غیر مرئی چھینٹے