انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xxii of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page xxii

۱۵ اے عزیزو! میں آپ سے دور ہوں مگر جسم دور ہے روح نہیں۔ میرے جسم کا ذرہ ذرہ اور میری روح کی ہر طاقت تمہارے لئے دعا میں مشغول ہے اور سوتے جاگتے میرا دل تمہاری بھلائی کی فکر میں ہے۔" آخر میں جماعت کو نصیحت کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں: יין اپنے آپ کو صاف رکھو تا قدوس خدا تمہارے ذریعے سے ! ذریعے سے اپنے قدس کو ظاہر کرے اور اپنے چہرہ کو بے نقاب کرے ۔ اتحاد، محبت، ایثار، قربانی ، اطاعت ہمد ردی بنی نوع انسان ، عفو ، شکر ، احسان اور تقوی کے ذریعہ سے اپنے آپ کو زیادہ سے زیادہ خدا تعالیٰ کا ہتھیار بننے کے قابل بناؤ ۔ یاد رکھو تمہاری سلامتی سے ہی آج دین کی سلامتی ہے۔" اغراض سفر کی اہمیت اور مشکلات انگلستان جاتے ہوئے سفر کے دوران جماعت احمدیہ کے نام لکھا جانے والا حضور کا یہ دوسرا خط ہے جو آپ نے پورٹ سعید کے قریب جہاز سے ۲۸/۲۷ جولائی ۱۹۲۴ء کو تحریر فرمایا۔ ابتداء وقت کی کمی کے باعث افراتفری میں سفر کی تیاری کانفرنس میں پڑھے جانے والے مضمون کی تیاری میں غیر معمولی مصروفیت ، سمندر میں شدید طوفان کے باعث جہاز میں حضور کے ساتھیوں کی بیماری اور دیگر مشکلات کا ذکر ہے۔ اس کے بعد حضور نے احباب جماعت کو یورپ میں تبلیغ اسلام کے سلسلہ میں بہت بڑے خطرے سے متنبہ فرمایا ہے اور وہ یہ کہ یورپ سے واقف کار لوگوں کا خیال ہے کہ یورپین لوگ اسلام کو شاید قبول تو کر لیں لیکن وہ اسلام میں تغیر و تبدل کر کے اس کی شکل بگاڑ دیں گے۔ عقیدہ کے لحاظ سے وہ مسلمان ہونگے لیکن وہ اپنا تمدن تبدیل نہیں کر سکیں گے۔ وہ گرجوں کی جگہ مسجدیں بنائیں گے لیکن تمدن کے لحاظ سے ان میں وہنی ناچ گھر وہی شراب اور سامان عیش نظر آئیں گے۔ اس سلسلہ میں آپ تحریر فرماتے ہیں: سینکڑوں دقتیں ہیں جو مغرب کی تبلیغ کے راستہ میں ہیں اور جن میں سے بہت سی ایسی ہیں کہ ان میں مغربی نو مسلم مجبور معلوم ہوتا ہے۔ پس یہی ہو گا کہ وہ اسلام کو قبول کر کے بھی اپنی رسموں کو نہیں چھوڑنے گا۔ اور مسلمان ہونے کے بعد