انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xxiii of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page xxiii

14 جب وہ وہی کام کرتا رہے گا جو وہ پہلے کرتا تھا تو آہستہ آہستہ اس میں یہ خیال پیدا ہو جائے گا کہ اس میں کوئی حرج نہیں اور نتیجہ یہ ہوگا کہ اسلام ایک بدلی ہوئی صورت میں یورپ میں قائم ہو جائے گا اور ان سے آگے وہ اسلام ساری دنیا میں پھیل جائے گا۔ جس طرح یورپ نے مسیحیت کو تباہ کیا تھا۔ الْعِيَاذُ بِاللهِ وہ اسلام کو بھی دوستی کے جامہ میں تباہ کر دے گا سوائے خدا تعالیٰ کی مدد کے ہم اس مشکل کو حل نہیں کر سکتے۔ مسلمان بنانا آسان ہے مگر اسلام کو ان سے بچانا مشکل ہے اور اس وقت میرے سفر کی یہی غرض ہے۔" پھر آپ احباب جماعت کو تاکید کرتے ہوئے فرماتے ہیں: "اگر میں زندہ رہا تو میں اِنْشَاء اللہ اس علم سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کروں گا۔ اگر میں اس جدوجہد میں مر گیا تو اے قوم! میں ایک نذیر مجریان کی طرح تجھے متنبہ کرتا ہوں کہ اس مصیبت کو کبھی نہ بھولنا۔ اسلام کی شکل کو کبھی نہ بدلنے دیتا۔ جس خدا نے مسیح موعود کو بھیجا ہے وہ ضرور کوئی راستہ نجات کا نکال دے گا۔ پس کوشش نہ چھوڑنا نہ چھوڑنا نہ چھوڑنا، آہ نہ چھوڑنا۔ میں کس طرح تم کو یقین دلاؤں کہ اسلام کا ہر ایک حکم نا قابل تبدیل ہے خواہ چھوٹا ہو خواہ بڑا ۔" آخر میں حضور نے تحریر فرمایا کہ : یہ سفر در حقیقت ذو القرنین کے بارہ میں ایک قرآنی پیشگوئی کے ماتحت ہوا ہے۔ اس لئے اس کی اہمیت عیاں ہے۔" سمندر پار کی آواز یہ تیسرا خط ہے جو حضور نے سفر انگلستان کے دوران جہاز سے احباب جماعت کے نام ر کو خود ملاحظہ کرنے کا موقع ملا تحریر فرمایا۔ اس میں مصر، فلسطین اور شام کے حالات جو حضور کو ۔ بیان کر کے ان کا حیرت انگیز تجزیہ کیا گیا ہے۔ حضور نے اس علاقہ کے مسلمانوں کو ان کے مستقبل کے سلسلہ میں قیمتی نصائح سے نوازا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ مسلمان صرف روحانی خلیفہ کے ہاتھ پر جمع ہو سکتے ہیں۔ مصر کے متعلق حضور نے ایک خاص بات بیان کی ہے۔ فرماتے ہیں: ”میرے نزدیک مصر مسلمانوں کا بچہ ہے جسے یورپ نے اپنے گھر میں پالا ہے تا