انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xxi of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page xxi

اله تک کہ انتظار کرنے والوں کی آنکھیں مدھم پڑ گئی تھیں اب تمہاری آنکھوں کو منور کر رہا ہے۔ مبارک وہ جو خدا کے نام پر آیا ۔ ہاں مبارک وہ جو خدا کے نام پر آیا۔ وہ جو اس کو پالیتے ہیں سب کچھ پالیتے ہیں اور وہ جو اس کو نہیں دیکھ سکتے وہ کچھ بھی نہیں دیکھ سکتے۔" پاکیزگی اختیار کرو تا تمہارے ذریعہ خدا اپنا قدس ظاہر کرے دوران اپنے خدام یہ وہ خط ہے جو حضور نے ۲۲ جوا حضور نے ۲۲ جولائی ۱۹۲۴ء کو اپنے سفر انگلستان کے دوران ا۔ کے نام اس وقت تحریر فرمایا جب کہ جہاز متلاطم سمندر کو عبور کر کے عدن کے قریب پہنچ رہا تھا۔ خط کے ایک ایک لفظ سے اس بے پایاں محبت و الفت کا اظہار ہوتا ہے جو حضور کے دل میں اپنے پیارے خدام کیلئے جوش مار رہی ہے۔ رات ڈھل چکی ہے، لوگ محو استراحت ہیں لیکن حضور اپنے محبوب اہل جماعت کو یاد کرنے میں مصروف ہیں۔ آپ کو مشورہ دیا گیا کہ گذشتہ رات آپ نیند پوری نہیں کر سکے اب آرام فرما ئیں لیکن آپ اپنے آرام کو تیاگ کر خط لکھنے میں مشغول ہو گئے تا کہ عدن سے سپرد ڈاک کیا جا سکے اور جلد قادیان پہنچ جائے۔ چنانچہ فرماتے ہیں اور کس جذبہ محبت سے فرماتے ہیں: " مجھے چھوڑو کہ میں خیالات و افکار کے پر لگا کر کاغذ کی ناؤ پر سوار ہو کر اس مقدس سرزمین میں پہنچوں جس سے میرا جسم بنا ہے اور جس میں میرا ہادی اور راہنما مدفون ہے اور جہاں میری آنکھوں کی ٹھنڈک اور دل کی راحت، دوستوں کی جماعت رہتی ہے۔ ہاں پیشتر اس کے کہ ہندوستان کی ڈاک کا وقت نکل جائے مجھے اپنے دوستوں کے نام ایک خط لکھنے دو تاکہ میری آدھی ملاقات سے وہ مسرور ہوں۔" امام جماعت اور احمدی احباب کے باہمی تعلق اور محبت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا : اس سفر نے اُس پوشیدہ محبت کو جو احمدی جماعت کو مجھ سے تھی اور جو مجھے ان سے تھی نکال کر باہر کر دیا اور ہمارے چھپے ہوئے راز ظاہر ہو گئے اور ان کا ظاہر ہونے کا حق بھی تھا۔ نہاں کے ماند آن رازی کدو سازند محفلها