انوارالعلوم (جلد 8) — Page 74
انوار العلوم جلد ۸ ۷۴ قول الحق والوں کے ہی حصہ میں آئی ہے کہ آریہ عیسائی ، سکھ وغیرہ ان سے لوگوں کو چھینے لئے جا رہے ہیں اور وہ کچھ نہیں کر سکتے۔ ہمیں بھی وہ لوگ اسلام سے الگ سمجھتے ہیں ہم بھی ان سے چھین رہے ہیں میں ان سے پوچھتا ہوں یہ غضب تم پر ہے یا حضرت مرزا صاحب کی جماعت پر ۔ تم میں سے اس طرح لوگوں کا نکلتے جانا اور تمہارا کچھ نہ کر سکنا ثبوت ہے اس بات کا کہ تم میں روحانیت نہیں رہی جس کے لئے حضرت مسیح موعود کا آنا ضروری ہے اور اسی لئے آئے باقی جو تریاق کھاتا ہے وہی بچایا جاتا ہے۔ تم حضرت مرزا صاحب کے غلاموں میں آجاؤ پھر دیکھو اس ارتداد کی لعنت سے کس طرح تمہیں بچایا جاتا ہے۔ ایک اعتراض محمدی بیگم والی پیشگوئی پر کیا گیا ہے اس محمد کی بیگم کے متعلق پیشگوئی اعتراض کو یہ لوگ ہمیشہ رہتے رہتے ہیں۔ حالانکہ بارہا پایا - گیا ہے کہ یہ وعید کی پیشگوئی تھی جو اس لئے کی گئی تھی کہ محمد صلی اللہ الل کی ہتک جو اس خاندان نے کی تھی اس کی سزا پائیں لیکن جب انہوں نے اس سے توبہ کی اور اصلاح کرلی تو خدا تعالٰی نے ان پر رحم کر دیا ۔ جب تک کہ وہ لوگ حضرت مرزا صاحب کے مقابلہ پر رہے دکھوں اور تکلیفوں میں مبتلاء رہے لیکن جب انہوں نے شوخی و شرارت چھوڑ دی اور خوف زدہ ہو گئے تو خدا تعالیٰ نے ان پر رحم کر دیا ۔ اس صورت میں اس پیشگوئی پر اعتراض کرنا پرلے درجہ کی بے حیائی نہیں تو اور کیا ہے۔ کس قدر عجیب بات ہے کہ وہ خاندان اور وہ عورتیں اور وہ گھر جس کے خلاف پیشگوئی تھی اس نے تو حضرت مرزا صاحب کو صادق اور راست باز مان لیا ہے اور یہ مولوی ابھی تک شور مچا رہے ہیں کہ پیشگوئی پوری نہیں ہوئی ۔ وہ ماں جس کی لڑکی کے متعلق پیشگوئی تھی وہ کہتی ہے کہ مرزا صاحب بچے تھے اور بیعت کر لیتی ہے وہ بھائی جس کی بہن کے متعلق پیشگوئی تھی وہ کہتا ہے کہ مرزا صاحب بچے اور پاک باز تھے پھر کیا مولویوں کا اس پیشگوئی کو غلط کہنا عجیب و غریب اندھے پن کی علامت نہیں ہے۔ اگر یہ پیشگوئی جھوٹی تھی تو اس کا سب سے زیادہ اثر اس خاندان کے افراد پر ہونا چاہئے تھا جس کے متعلق کی گئی تھی مگر وہ تو بیعت میں داخل ہو چکے ہیں اور مولوی صاحب ابھی تک سر پیٹ رہے ہیں اگر وہ پیشگوئی بطور وعدہ کے تھی اور اس طرح تھی جس طرح مولوی کہتے ہیں تو اس عورت کی ماں ، بہن ، بھائی کیوں میری بیعت میں شامل ہوئے کیا ان کو ان باتوں کا پتہ نہیں اور ثناء اللہ وغیرہ کو زیادہ پتہ ہے۔ اس سے زیادہ چمگادڑ چشم کیا ہو سکتے ہیں کہ گھر والے تو کہتے ہیں کہ حضرت مرزا صاحب بچے تھے مگر یہ باہر بیٹھے کہتے ہیں