انوارالعلوم (جلد 8) — Page 75
انوار العلوم جلد ۸ نہیں جھوٹے ہیں۔ ۷۵ قول الحق دیکھو ان مولویوں کی یہ حالت اور یہ کیفیت اسلام پر مصیبت اور مولویوں کی خوشی ہی بتا رہی ہے کہ اس زمانہ میں کسی مصلح کی ضرورت ہے اس وقت دیکھو کیا حالت ہے اسلام کی اور ایسی حالت میں اسلام کے یہ عمود اور ستون کیا کر رہے ہیں۔ ان کی مثال ایسی ہی ہے کہ ایک خوبصورت اور پیارا لڑکا کچھ لوگوں کے سپرد کیا گیا ہو ۔ جو ان کی لاپر واہی اور بے توجہی سے دم توڑ رہا ہو لیکن وہ اس کے کپڑے بانٹنے میں مصروف ہوں اور اس تقسیم پر خوش ہو رہے ہوں ۔ یہ لوگ محمد اللہ کے خادم کہلانے والے ، اس کے دین کے وارث بننے والے اس کے دین کے نگہبان ہونے کا دعویٰ کرنے والے اس وقت جبکہ دین مٹ رہا ہے اس پر عمل کرنے والے ان میں موجود نہیں ہیں ادھر ادھر ناچتے پھرتے ہیں اور روپے بٹورتے پھرتے ہیں اسلام کی انہیں کوئی فکر نہیں۔ آخر عقل و فکر بھی کوئی چیز ہے یا نہیں۔ مسلمان اتنا تو سوچیں کہ ان محمد اللہ کے ورثاء کہلانے والوں میں اسلام ہے کہاں؟ وہ کو نسا طبقہ ہے جو نمازیں پڑھنے والا روزے رکھنے والا ورثہ کے احکام پر عمل کرنے والا، صحیح عقائد رکھنے والا ہے ؟ اور وہ کونسے لوگ ہیں جنہوں نے خدمت اسلام کے لئے زندگیاں وقف کی ہیں جن کی شکلیں اور شباہتیں مسلمانوں کی سی ہیں انصاف سے کہدیں کیا آج ان مسلمان کہلانے والوں کی حالت ایسی ہے کہ اگر محمد ال آئیں تو انہیں مسلمان کہہ سکیں ؟ اگر نہیں کہہ سکتے تو کیا ان مولویوں کو شرم نہیں آتی جو کہتے ہیں اب بھی کسی مأمور کی ضرورت نہیں۔ اگر آج نہیں تو پھر کب ہو سکتی ہے وہ عرب جن کے متعلق کہا جاتا تھا کہ جب مرزا صاحب کو انہوں نے نہیں مانا تو کس طرح کہا جا سکتا ہے کہ بچے تھے آج انہیں باغی اور غدار اور دشمنانِ اسلام کہا جاتا ہے۔ وہ ترک جن کو حامل خلافت کہا جاتا تھا اب جبکہ انہوں نے خلیفہ کو کان سے پکڑ کر اپنے ملک سے نکال دیا تو وہ بھی ان کے نزدیک مسلمان نہ رہے یا اسلام کا صحیح نمونہ نہ رہے۔ مصر میں اسلامی پردہ کو خیر باد کہا جا رہا ہے مسلمان شراب پیتے اور علماء علی الاعلان جوا کھیلتے ہیں۔ ایران شریعت اسلامیہ کے ہر حکم کو توڑ بیٹھا ہے چین اور جاوا ۔ جاوا کے مسلمانوں کی حالت کا پتہ نہیں اس اپنے ملک ہندوستان میں دیکھ لو مسلمانوں کی کیا حالت ہے۔ پھر اسلام کہاں ہے؟ اگر اب بھی خدا نے اسلام کی حفاظت کا کوئی سامان نہیں کیا تو پھر کب اور کس وقت خدا کی طرف سے مدد آئے گی؟ اگر اب بھی خدا اسلام کی مدد نہیں کرتا تو حضرت مرزا صاحب کو چھوٹا کہہ دو۔ مگر ساتھ