انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 72 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 72

انوار العلوم جلد ۸ ۷۲ قول الحق ہو گئے اگر وہ سارا چھینٹا ساری قادیان پر پڑتا تو قادیان به نہ جاتی بلکہ اس میں رہنے والے سارے کے سارے زندہ ہو جاتے اور پھر ہمیں اس جگہ یزیدی صفت لوگ نظر نہ آتے مگر وہ چھینٹا صرف مرزا صاحب پر پڑا اس لئے آپ ہی نے پ ہی زندہ ہوئے یا وہ جو آپ کے دامن سے وابستہ ہو ۔ تہ ہو گئے۔ خدا کو بیٹھے ہوئے دیکھنا پھر اعتراض کیا گیا ہے کہ مرزا صاحب نے لکھا ہے خدا کو دیکھا کہ وہ بیٹھا ہوا تھا کیا خدا آدمی تھا۔ یہ اعتراض بھی ان لوگوں کی جہالت کا نتیجہ ہے حدیث میں آتا ہے ابی ابن کعب فرماتے ہیں رسول کریم ﷺ نے فرمایا ۔ میں نے خدا کو دیکھا ہے جو ایک خوبصورت نوجوان کی شکل میں تھا سبز لباس تھا اور سونے کی کرسی پر تھا اور سونے کی جوتیاں پہنے تھا۔ کے اس کشف پر یہ مولوی اعتراض نہیں کرتے مگرد کرتے مگر حضرت مرزا صاحب - مرزا صاحب کے کشف کے متعلق باتیں بنانے لگتے ہیں ؟ بنانے لگتے ہیں کبھی کہا جاتا ہے قلم کہاں سے آیا تھا کبھی کہا جاتا ہے چھینٹا کیوں پھینکا۔ ہم تو کہتے ہیں خدا سونے کی جوتی بھی استعمال کرتا ہے سونے کی کرسی پر بھی بیٹھتا ہے وہ نوجوان صفت بھی ہے اور تم ان باتوں کو مانتے ہو پھر جب حضرت صاحب کا کوئی کشف تمہارے سامنے آئے تو اس وقت تمہارا کفر کیوں؟ وں پھوٹ پڑتا اور تمہارا کوڑھ کیوں ظاہر ہونے لگتا ہے ۔ اسی طرح ابن عباس کہتے ہیں کہ میں نے خدا کو سبز لباس میں دیکھا کے یہ روایت كِتَابُ الْأَسْمَاءِ وَالصِّفَاتِ میں لکھی ہے۔ پھر کہا گیا ہے کہ مرزا صاحب نے لکھا تھا کہ قادیان میں طاعون لدا طاعون کے متعلق پیشگوئی نہیں آئے گی مگر آئی۔ میں کہتا ہوں حضرت مرزا صاحب نے یہ نہیں لکھا تھا بلکہ یہ لکھا تھا کہ طاعون آئے گی مگر ہمارا گھر بچایا جائے گا ۔ میں اس شخص کو دس ہزار روپیہ دیتا ہوں جو حضرت مرزا صاحب کی کسی تحریر سے یہ الفاظ نکال دے کہ قادیان طاعون سے بالکل محفوظ رہے گی اور یہاں کوئی آدمی طاعون سے نہ مرے گا۔ آپ نے جو کچھ لکھا تھا وہ یہ تھا کہ طاعون آئے گی مگر یہ جگہ طاعون جارف سے بچائی جائے گی ہے اور یہ دونوں باتیں پوری ہوئیں۔ پھر کہا گیا ہے مرزا صاحب نے حضرت عیسی کے معجزات کو تماشہ حضرت عیسی کے معجزات قرار دیا ہے میں کہتا ہوں جن معنوں میں تم لوگ حضرت عیسی کے معجزات پیش کرتے ہو مثلاً یہ کہ انہوں نے جسمانی مردے زندہ کئے، جسمانی اندھوں کو آنکھیں دیں، پرندے پیدا کئے ۔ ان معنوں کو دا اگئے۔ ان معنوں کو حضرت مرزا صاحب نے نے تماشہ کہا ہے و ہے ورنہ ان