انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 73 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 73

انوار العلوم - جلدے ۷۳ نجات ہے اور وہ الطف چیز روح ہے۔ پس کوئی مخلوق روح جسم کے بغیر نہیں رہ سکتی اور یہ بحث ہی غلط ہے کہ نجات یا عذاب جسم کو ہو گایا روح کو ؟ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ اس پتلے کے ساتھ عذاب یا نجات ہوگی وہ بہت ہی بے وقوفی کی بات کہتے ہیں کیونکہ یہ تو بدلتا رہتا ہے۔ پھر کس عمر کے جسم کے ساتھ نجات یا عذاب ہو گا اس جسم کے ساتھ جو ہیں برس کی عمر میں تھایا جو تمہیں برس کی عمر میں تھا۔ اور دوسرے لوگ جو کہتے ہیں کہ چونکہ یہ جسم نہیں ہو گا اس لئے نجات یا عذاب بھی جسمانی نہیں بلکہ صرف روحانی ہوں گے وہ بھی سخت غلطی کرتے ہیں اور ان کا قول بھی خلاف عقل ہے۔ کیا اگر یہ کہا جائے کہ فلاں شخص نے کالا کوٹ نہیں پہنا ہوا تو اس کا یہ مطلب ہو گا کہ وہ ننگا ہے؟ ہرگز نہیں۔ اغلب ہے کہ اس نے کوئی اور کپڑا پہنا ہو اسی طرح اگر یہ جسم نہیں ہو گا تو کیا ہوا کوئی اور جسم ہو گا۔ قرآن کریم میں خدا تعالی فرماتا ہے کہ کوئی روح جسم کے بغیر نہیں ہو سکتی۔ چنانچہ آتا ہے وَمِنْ كُلِّ شَيْ ءٍ خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ ۳۰ کہ ہم نے ہر چیز کو جوڑا جوڑا کر کے پیدا کیا ہے تاکہ تم اس قانون کو دیکھ کر نصیحت حاصل کرو۔ یعنی یہ قانون ایک اور بالا امر کی طرف دلالت کرتا ہے اور وہ وحدت باری ہے۔ اللہ تعالی نے اپنی ذات کے ثبوت اور اپنی وحدت کی حفاظت اور اس کی حقیقت کو اشتباہ سے بچانے کے لئے یہ قانون بنا دیا ہے کہ کوئی چیز مخلوق میں سے ایسی نہیں جو مفرد ہو کر زندہ رہ سکے بلکہ ہر چیز اپنے قیام کے لئے کسی اور چیز کی حاجت مند ہے جو اس کے لئے بمنزلہ جسم کے ہے اور یہ قانون مخلوق سے کسی حالت میں بھی الگ نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ اس کو کسی شرط سے محدود نہیں کیا گیا۔ پس اگلے جہان میں بھی ہر انسان کا ایک جسم ہو گا ایک روح ہوگی اور عذاب اور انعامات جسمانی و روحانی دونوں طرح کے ہوں گے ۔ ہاں مگر قرآن اور حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اگلے جہان میں یہ جسم نہ ہو گا کیونکہ اس جسم کے متعلق آتا ہے کہ یہ نعمائے جنت کو محسوس ہی نہیں کر سکتا جن میں سے سب سے بڑی نعمت رؤیت الہی ہے۔ پس وہاں یہ جسم نہیں جائے گا بلکہ کوئی اور ہو گا۔ اس بات کے موید بعض نئے علوم بھی ہیں ۔ سپر چولزم (SPIRITUALISM) کے تجارب سے بھی یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ روح ہمیشہ ایک جسم میں رہتی ہے۔ میں اس سپر چولزم کا قائل نہیں کہ اس کے ذریعہ مردوں کی روحیں بلوائی جاتی ہیں مگر میں اس کا قائل ہوں کہ روحیں چلتی