انوارالعلوم (جلد 7) — Page 74
انوار العلوم - جلدے ۷۴ پھرتی نظر آجاتی ہیں۔ اگلے جہان کے جسم کے متعلق معلوم یہ ہوتا ہے کہ قبر میں روح انسانی ترقی کرتے کرتے ایسا نشو و نما پیدا کرے گی کہ اس میں سے ایک اعلیٰ جو ہر پیدا ہو جائے گا جو اس روح کے لئے بمنزلہ روح کے ہوگا اور موجودہ روح اس کے لئے بمنزلہ جسم کے ہو جائے گی۔ یہ نئے روح اور جسم جنت اور دوزخ کی نعمتوں یا عذابوں کو محسوس کرنے کے قابل ہوں گے۔ چونکہ قبر کی نسبت وہی لفظ آئے ہیں جو رحم کے لئے آتے ہیں اس لئے وہ روح کے لئے رحم کے طور پر ہے جس میں روح ترقی کرتی ہے اور اس کو نیا جسم حاصل ہوتا ہے۔ اب یہ سوال ہو سکتا ہے کہ جب یہ روح اور جسم ہی بدل جائے گا تو پھر جذاب و ثواب کیسا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ان کے بدلنے سے مراد شکل کا بدلنا ہے ورنہ ان میں مشارکت چلی جاتی ہے۔ چنانچہ دیکھ لو نطفہ میں وہ کیڑا جس سے بچہ بنتا ہے اس قدر چھوٹا ہوتا ہے کہ خوردبین سے ہی نظر آتا ہے لیکن اگر باپ میں سل ہو تو بسا اوقات بچے کو بھی ہو جاتی ہے کیونکہ سل کا اثر اس نطفہ کے کیڑے کے ذریعہ بچہ میں بھی منتقل ہو جاتا ہے اسی طرح روح اور جسم جو نئی شکل اختیار کرتے ہیں وہ اپنے حالات کو اس نئی شکل کی طرف منتقل کرتے چلے جاتے ہیں۔ کہتے ہیں سات سال میں انسان کا پہلا جسم بدل جاتا ہے مگر باوجود اس کے بدصورت بدصورت ہی رہتے ہیں اور حسین حسین ہی۔ یہ نہیں ہوتا کہ بدصورت سات سال کے بعد حسین ہو جائے۔ اور حسین بدو ابد صورت بن جائے۔ وجہ یہ ہے کہ جسم بدلنے کے لئے جو نہ کے لئے جو نیا ذرہ آتا ہے وہ اسی طرح اس جسم میں رکھا جاتا ہے جس طرح پہلا ذرہ ہوتا ہے اس لئے اگر جسم پر کسی جگہ زخم وغیرہ کا کوئی نشان ہو تو وہ اسی طرح رہتا ہے۔ اسی طرح روح بھی احساسات کا مادہ منتقل کرتی چلی جائے گی۔ اور ہر تغیر پہلے کے احساسات کو لیتا جائے گا اس لئے خواہ روح کی کچھ بھی شکل بدل جائے وہ پہلے عذابوں یا انعاموں کا مستحق ہوگا۔ اور اگر ہم یہ مان لیں کہ متغیر شدہ شکل کو پہلی سے کوئی مشارکت نہیں رہتی تو پھر زندگی کیا رہی۔ پھر تو ماننا پڑے گا کہ پہلی چیز مرگئی اور کوئی نئی چیز پیدا ہوتی ہے۔ ایک یہ سوال ہے کہ نجات دائمی ہے یا عارضی؟ ہندوؤں کا نجات دائمی ہے یا عارضی اس کے متعلق مجیب عقیدہ ہے۔ وہ کہتے ہیں نجات دائی نہیں چنانچہ وہ کہتے ہیں جب رو میں نجات پا جاتی ہیں تو وہ خدا میں مل جاتی ہیں اور اس کے پیٹ میں چلی جاتی ہیں۔ خدا ایک لمبے عرصہ تک سوتا رہتا ہے پھر جب اٹھتا ہے تو اسے قے آتی ہے اور رو میں نجات