انوارالعلوم (جلد 7) — Page 72
انوار العلوم - جلدے ۷۲ نجات اب یہ سوال ہے کہ کیا گناہ کے شرعی اثر سے بھی نجات گناہ کے شرعی اثر سے نجات ہو سکتی ہے؟ قرآن کریم کتا ہے ہاں ہوسکتی ہے۔ چنانچہ ہو ؟ سورۃ زمر میں آتا ہے ۔ قُلْ يُعِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَ فُوْا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ إِنَّ اللهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ خدا ۲۷ تعالیٰ فرماتا ہے ۔ اے میرے بندو! گھبراتے کیوں ہو کہ اب گناہگار ہو گئے ہیں۔ اگر تم نے کوئی گناہ بھی نہیں چھوڑا سب کر لئے ہیں تو بھی میں سب گناہ معاف کر سکتا ہوں کیونکہ میں گناہ معاف کرنے والا ہوں۔ اب یہ سوال ہے کہ کیا حقیقی نجات انسان کو مل سکتی ہے ؟ دیگر مذاہب کے لوگ حقیقی نجات کہتے تو ہیں کہ ہمارے کہ ہمارے مذہب میں بھی ایسی نجات ہے مگر کوئی پیش تو کرے ۔ قرآن کریم میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے اِنْ كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ ۲۸- اگر تم الله محبت رکھتے ہو۔ تو می ہو تو محمد (ا) سے محبت کرو تم خدا کے محبوب ہو جاؤ گے ۔ اور خدا کا پیارا ہو ۔ سے جانا اور اس کا مقرب ہو جانا ہی حقیقی نجات ہے۔ اس آیت سے بھی بڑھ کر حقیقی نجات کے ملنے کے متعلق مندرجہ ذیل آیت میں زور دیا گیا ہے - إِنَّ الَّذِينَ لَا يَرْحُوْنَ لِقَاءَ نَا وَرَضُوا بِالْحَيُوةِ الدُّنْيَا وَاطْمَاتُوا بِهَا وَالَّذِينَ هُمْ عَنْ ايْتِنَا غَفِلُونَ - أُولَئِكَ مَا وَهُمُ النَّارُ بِمَا كَانُوا يَكْسِبُونَ ۔ یعنی وہ لوگ جو ہم سے ملنے کی امید نہیں رکھتے اور ورلی دنیا پر ہی راضی ہو گئے ہیں اور اس پر ان کو اطمینان حاصل ہو گیا ہے اور وہ لوگ جو ہمارے نشانوں سے غافل ہو گئے ہیں وہ لوگ ایسے ہیں کہ ان کا ٹھکانا ان کے اعمال کے سبب سے جہنم ہے۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ حقیقی نجات یعنی لقاء الہی کے منکر کو سخت سزا سے ڈرایا گیا ہے ۔ اس سے ظاہر ہے کہ اسلام نجات کے لئے کس قدر زور دیتا ہے۔ ایک سوال یہ ہے کہ نجات روحانی ہے یا جسمانی؟ یہ بھی نجات روحانی ہے یا جسمانی؟ مختلف مذاہب میں بحث طلب امر ہے مگر یہ بحث ایک خطرناک دھوکا سے پیدا ہوئی ہے۔ دھو کا یہ لگا ہے کہ لوگ خیال کر لیتے ہیں کہ جسم اس چیز کا نام ہے جو مرتی ہو اور جو چیز نظر نہ آئے وہ روح ہے جس سے جسم میں حرکت پیدا ہوتی ہے مگر یہ تعریف بالکل غلط اور ناقص ہے۔ اصل میں جسم کا لفظ ایک نسبتی حقیقت کے لئے استعمال کیا جاتا ہے اور اس کی تعریف یہ ہے کہ جسم وہ شئے ہے جس میں اس سے الطف چیز رہتی ہے اور جس کے بغیر وہ لطیف شئے رہ نہیں سکتی ۔ گویا جسم وہ برتن ہے جس میں ایک الطف چیز بطور اتحاد کے رہتی