انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 51 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 51

انوار العلوم - جلدے ۵۱ نجات تمام دنیا کے گوشوں کی کتابیں اس بات کو مد نظر رکھ کر پڑھی ہیں کہ آیا کوئی علاقہ ایسا ہے جہاں خدا نہ تعالٰی کے ماننے کا خیال نہیں تو مجھے یہی معلوم ہوا ہے کہ سب جگہ ہے۔ ۔ اسی طرح تمام علاقوں میں نجات کا خیال نجات کا خیال تمام انسانوں میں پایا جاتا ہے پایا جاتا ہے۔ عیسائیوں کا تو مدار ہی اس مسئلہ پر ہے ۔ ہندوؤں میں جا کر دیا جا کر دیکھو تو وہ اسے مکتی اور مو کھش کے مو کھش کہتے ہیں اور اسے ضروری مانتے ہیں۔ یہودی مذہب کی کتابیں جب پڑھتے ہیں تو بائبل سے معلوم ہوتا ہے کہ نجات ضروری ہے انسان کو چاہئے کہ اسے حاصل کرے۔ گو نجات کا لفظ جو عربی ہے وہ نہ ہو مگر اس قسم کے الفاظ کہ خدا کے غضب سے بچنا چاہئے اور اس کا قرب حاصل کرنا چاہئے ضرور پائے جاتے ہیں۔ ۳۔ پھر ایرانیوں اور زرتشتیوں کی کتابوں میں بھی یہی پایا جاتا ہے۔ پھر نہایت پرانے مذاہب یعنی مصری اور جاپانی وغیرہ لوگوں میں بھی نجات کا مسئلہ پایا جاتا ہے۔ سات سات ہزار سال کے پرانے آثار ملے ہیں ان سے پتہ لگا ہے کہ وہ لوگ مردوں کے ساتھ کھانے پینے کی چیزیں اور قیمتی اشیاء اس لئے رکھ دیا کرتے تھے کہ وہ عذاب سے بچ جائیں ۔ گویا نجات کا خیال ادنیٰ سے ادنی مذاہب میں بھی پایا جاتا ہے۔ مگر عجیب بات یہ ہے کہ جب نجات کا خیال خدا کے خیال سے زیادہ پھیلا ہوا ہے اور تحقیقات کرتے ہیں تو خدا تعالٰی کے وجود کے خیال سے بھی اس کو آگے نکلا ہوا پاتے ہیں کیونکہ بعض ایسی قومیں ہیں جنہوں نے خدا کو چھوڑ دیا ہے مگر نجات کو مانتی ہیں کہ یہ ضروری ہے۔ چنانچہ ہندوؤں میں بدھ اور جینی ایسی ہی قومیں ہیں۔ بدھ پہلے خدا کے قائل تھے مگر موجودہ بدھ نہیں وہ کہتے ہیں ہمیں نہ یہ پتہ ہے کہ خدا ہے اور نہ یہ کہ خدا نہیں ۔ وہ کہتے ہیں کہ ہمیں اس سے کچھ واسطہ نہیں کہ خدا ہے یا نہیں اصل بات یہ ہے کہ نجات حاصل کرنی چاہئے۔ گویا انہوں نے خدا کو چھوڑ دیا مگر نجات کو نہیں چھوڑا کیونکہ یہ بات ان کے اپنے دکھوں سے تعلق رکھتی ہے۔ ان سے بڑھ کر جینی ہیں ۔ وہ صاف طور پر کہتے ہیں کہ خدا کوئی نہیں ہے مگر وہ بھی یہی کہتے ہیں کہ انسانی روحوں کا سب سے بڑا مقصد نجات حاصل کرنا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ نجات فطرت کا مسئلہ ہے اور ایسے متفقہ طور پر لوگ اسے مانتے ہیں کہ کسی حالت میں ان سے یہ الگ نہیں ہو سکتا۔ پس جب کہ اس کے متعلق ایسی تڑپ لگی ہوئی