انوارالعلوم (جلد 7) — Page 52
انوار العلوم - جلدے ۵۲ نجات ہے کہ چاہے کوئی خدا کو بھی مانے یا نہ مانے مگر اس کو ضرور مانتا ہے تو پھر جو قوم خدا کو بھی مانتی ہو کوبھی یانہ اس کی اس کے حصول کے لئے کتنی ذمہ داری ہے؟ اس زمانہ میں دیو سما جی ایک فرقہ ہے۔ وہ دہر یہ ہیں ہے۔ وہ دہر یہ ہیں مگر وہ بھی اس بات کے قائل ہیں کہ انسانی روح ترقی کر جاتی اور اعلیٰ مراتب حاصل کر لیتی ہے۔ پھر عجیب بات یہ ہے کہ یورپ کے وہر یہ بھی نجات کے پیچھے لگے ہوئے ہیں۔ وہ کسی مذہب کے قائل نہیں مگر وہ بھی کہتے ہیں کہ مرنے کے بعد روح ترقی کرتی ہے اس کے لئے کوشش کرنی چاہئے تاکہ مرنے کے بعد روح آرام حاصل کرے ۔ وہ نجات کی تعریف مختلف کرتے ہیں مگر یہ سب مانتے ہیں کہ ہم نجات میں نہیں ہیں اسے حاصل کرنا چاہئے۔ بدھ کی نجات کے لئے کوشش پرانے زمانے میں نجات کے لئے جو کوشیش کی گئی ہیں ان میں سے ایک عجیب واقعہ ہے جو واقعہ ہے جو طبیعت پر بڑا اثر کرتا ہے۔ اور وہ بدھ ہ بدھ کا واقعہ ہے بدھ کے معنی ہیں جاگا ہوا اور نیند - جاگا ہوا اور نیند سے اٹھ بیٹھا۔ لکھا ہے کہ بدھ راجہ کا بیٹا تھا نجومیوں نے اس کے متعلق کہا کہ یا تو یہ بڑا معلم ہو گا یا بڑا بادشاہ ہو گا۔ (یاد رکھنا چاہئے کہ ایسے واقعات میں بہت سی جھوٹی باتیں بعد میں مل جاتی ہیں)۔ اس کے باپ نے سوچا کہ میرا یی ایک بیٹا ہے میں اس کو معلم نہ بننے دوں بلکہ یہ بادشاہ بنے۔ اس کے لئے اس نے نجومیوں سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ اس کو ایسے لوگوں سے ملنے نہ دو جن کا رجحان علم کی طرف ہو ۔ اس پر اس کے باپ نے ایک قلعہ بنایا اور اس میں ایسے نوکر رکھے جو ہر وقت خوش و خرم رہیں ۔ ان میں سے اگر کوئی بیمار ہو جاتا تو اس کو ہٹا دیا جاتا۔ اسی طرز پر اس کی پرورش کی اور کوئی غمناک بات اس کے سامنے نہ ہونے دی حتی کہ وہ جوان ہو گیا اور اس وقت تک اسے کبھی دکھ کا پتہ نہ لگنے دیا گیا ( یہ تو مبالغہ ہے اگر دوسروں کے دکھ اسے معلوم نہ ہونے دیئے ۔ تو کیا اس عرصہ میں اسے خود بھی کوئی دکھ اور تکلیف نہ ہوئی ہو گی ؟ آخر کہتے ہیں کہ اس نے اپنے باپ کو کہا کہ میں اندر رہتے رہتے تنگ آگیا ہوں اور باہر نکلنا چاہتا ہوں۔ باپ نے اس کی بات کو مان لیا مگر نوکروں سے کہا کہ اسے شہر میں نہ لاؤ شہر کے باہر باہر ہی پھیراؤ ۔ ایک امیر اس کی رتھ ایک سڑک پر لے گیا مگر عجیب بات یہ ہوئی کہ ایک بیمار مسافر اسی سڑک پر بیٹھا تھا جس کو لوگ شہر میں نہ رہنے دیتے تھے وہ اس کو ملا۔ اس نے پوچھا یہ کون ہے؟ پہلے تو ٹالنے کی کوشش کی گئی مگر اس کے اصرار پر آخر بتایا گیا کہ یہ ایک بیمار ہے جسے شہر سے نکالا گیا ہے ۔ یہ بات سن کر اس پر اتنا اثر ہوا کہ وہ وہیں سے واپس