انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 50 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 50

انوار العلوم - جلد سے ۵۰ نجات سال بھی آئیں۔ پھر اس سے اگلے سال اور آئیں۔ میری نیت یہی ہے کہ ہر سال ایک مہینہ اس طرح درس کے لئے رکھا جائے تا کہ اس طرح آہستہ آہستہ ساری جماعت قرآن کریم پڑھ لے۔ پھر یہ بھی نیت ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو اس درس کو شائع بھی کر دیا جائے اس کے لئے نوٹ لکھ لئے گئے ہیں اور ان کی درستی کا کچھ کام شروع کر دیا گیا ہے۔ کچھ انشاء اللہ جلسہ کے بعد کروں گا اور اس طرح کچھ حصہ شائع ہو جائے گا مگر اس کے شائع کرنے کا خیال کر کے احباب یہ نہ سمجھ لیں کہ وہ اس کو پڑھ لیں گے اور یہی ان کے لئے کافی ہو گا۔ دیکھو قرآن کریم بھی موجود ہے مگر لوگ اس کو پڑھ نہیں سکتے۔ میرے نوٹ قرآن کریم سے تو بڑھ کر نہیں ہوں گے پھر ان سے پورا پورا فائدہ کس طرح حاصل کیا جا سکتا ہے۔ بات یہ ہے کہ جو زبانی پڑھانے کا اثر ہوتا ہے وہ کتاب کے پڑھنے سے نہیں ہوتا۔ پھر زبانی پڑھاتے وقت توجہ اور دعا بھی علم کے ساتھ شامل ہوتی ہے اور یہ اثر کتاب میں کم ہوتا ہے ۔ پھر ذاتی خیالات کا جو یہ فائدہ ہوتا ہے کہ فلاں آدمی کے لئے کون سے سوال حل کرنے چاہئیں اور فلاں کے لئے کون سے وہ نہیں ہو سکتا۔ پھر پڑھنے والوں کو جو سوال پیدا ہوتے ہیں وہ پیش کرتے ہیں اور ان کو حل کیا جاتا ہے ۔ ان فوائد کو مد نظر رکھ کر دوستوں کو چاہئے کہ درس میں حاضری میں سستی نہ کریں۔ اب میں اصل مضمون کی طرف آتا ہوں۔ پہلی بات نجات فطرت انسانی میں داخل ہے نجات کے متعلق یہ ہے کہ نجات فطرت انسان میں داخل ہے اور نجات کی اہمیت اس قدر بڑھی ہوئی ہے کہ یہ فطرت انسانی میں موجود ہے اور فطرت میں وہی مسائل داخل ہوتے ہیں جو نہایت اہم ہوتے ہیں تاکہ ان کے متعلق شریعت یا غیر شریعت کا سوال ہی نہ ہو ۔ جیسے ہستی باری تعالی کا خیال بھی فطرت انسانی میں داخل ہے۔ جن قوموں میں کوئی الہامی کتاب نہیں پائی جاتی ان میں بھی یہ خیال پایا جاتا ہے اور دنیا کی کوئی قوم اس خیال سے خالی نہیں ہے۔ پس اہم امور ہی فطرت میں رکھے جاتے ہیں۔ اب یہ سوال کہ فطرت میں کس طرح نجات نجات کے فطرت میں ہونے کا ثبوت رکھی ہوئی ہے ؟ اس کا ثبوت یہ ہے کہ جس قدر مذاہب ہیں ان کے پیروؤں میں نجات کا خیال کسی نہ کسی رنگ میں پایا جاتا ہے۔ جس طرف جس گوشہ میں چلے جاؤ خدا تعالی کی ہستی کا خیال پایا جاتا ہے۔ حبشیوں میں چلے جاؤ تو ان میں بھی یہ خیال موجود ہے ۔ آسٹریلیا میں چلے جاؤ تو وہاں کے قدیم باشندوں میں بھی یہ خیال پایا جاتا ہے اور میں نے