انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 549 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 549

انوار العلوم جلدے ۵۴۹ دعوة الامير کل حکومتیں اس صدمہ سے کمزور ہو جائیں گی اور خصوصاً زار کی حالت بہت زار ہو جائے گی۔ جانوروں تک پر اس کا اثر پڑے گا اور ان کے حواس جاتے رہیں گے اور وہ اپنی بولیاں بھول جائیں گے۔ اس کے علاوہ آپ کو الہام ہوا کشتیاں چلتی ہیں تا ہوں کشتیاں ۲۹۴، لنگر اٹھا دو ۔ ۲۹۵۔ اور یہ بھی آپ نے لکھا کہ یہ سب کچھ سولہ سال کے عرصہ میں ہو گا، پہلے آپ کو ایک الہام ہوا تھا جس سے معلوم ہوتا تھا کہ زلزلہ آپ کی زندگی میں آئے گا۔ مگر پھر الہانا یہ دعا سکھائی گئی کہ اے خدا مجھے یہ زلزلہ نہ دکھلا ۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ یہ جنگ سولہ سال کے عرصے کے اندر تو ہوئی ، لیکن آپ کی زندگی میں نہ ہوئی۔ جیسا کہ میں پہلے لکھ چکا ہوں اس پیشگوئی میں زلزلے کا لفظ ہے لیکن اس سے مراد جنگ عظیم تھی۔ اب میں وہ دلائل بیان کرتا ہوں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ اس پیشگوئی میں جنگ عظیم کی ہی خبر دی گئی تھی (1) زلزلے کا لفظ جنگ کیلئے بھی استعمال کیا جاتا ہے بلکہ ہر آفت شدید کیلئے قرآن کریم میں بھی یہ لفظ جنگ عظیم کے معنوں میں استعمال ہوا ہے سورۃ احزار رہ احزاب میں اللہ تعالٰی فرماتا ہے إِذْ جَاءَ وَكُمْ مِنْ فَوْقِكُمْ وَمِنْ اسْمَلَ مِنْكُمْ وَإِذْزَاغَتِ الْأَبْصَارُ وَ بَلَغَتِ الْقُلُوبُ الْحَنَاجِرَ وَتَظُنُّونَ بِاللَّهِ الظُّنُونَا - هُنَالِكَ ابْتُلِيَ الْمُؤْمِنُونَ وَزُلْزِلُوا زِلْزَالاً شَدِيدًا (۲۹۔ یعنی یاد کرو اس وقت کو جب دشمن تمہارے اوپر کی طرف سے بھی اور نیچے کی طرف سے بھی حملہ آور ہوا تھا آنکھیں پھر گئی تھیں اور دل حلق میں آگئے تھے اور تم اللہ تعالی کے متعلق قسم قسم کے گمان کرنے لگ گئے تھے اس موقع پر مومنوں کی آزمائش کی گئی تھی اور وہ ایک سخت آفت میں مبتلاء کر دیئے گئے تھے پس جبکہ زلزلے کا لفظ ہر آفت پر بولا جا سکتا ہے اور قرآن کریم میں جنگ کیلئے استعمال ہوا ہے تو پیشگوئی کے الفاظ متحمل ہیں، اگر اس پیشگوئی کے معنی زلزلے کی بجائے کچھ اور کئے جاویں۔ (۲) جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس پیشگوئی کو شائع کیا تو اس وقت یہ نوٹ بھی لکھ دیا کہ گو ظاہر الفاظ زلزلے ہی کی طرف اشارہ کرتے ہیں مگر ممکن ہے کہ یہ معمولی زلزلہ نہ ہو بلکہ کوئی اور شدید آفت ہو جو قیامت کا نظارہ دکھاوے جس کی نظیر کبھی اس زمانے نے نہ دیکھی ہو اور جانوں اور عمارتوں پر سخت تباہی آوے ۔ ۲۹۷ پس قبل از وقت ملہم کا ذہن بھی اس طرف گیا تھا کہ عجب نہیں کہ زلزلے سے مراد کوئی