انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 538 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 538

انوار العلوم جلدے ۵۳۸ دعوة الامير إِنَّ فِي ذَلِكَ لانتِ لِلطَّالِبِينَ ٢٦ یعنی اللہ تعالی نے مجھے بشارت دی ہے کہ تو ایک یورم عید دیکھے گا اور وہ دن عید کے دن سے بالکل ملا ہوا ہو گا اور پھر لکھا کہ اللہ تعالی کی طرف سے جو کچھ مجھ پر فضل ہوئے ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ ایک شخص لیکھرام کے متعلق اس نے میری دعا قبول کرلی ہے اور مجھے خبر دی ہے کہ وہ ہلاک ہو جائے گا یہ شخص رسول کریم اللہ کو گالیاں دیا کرتا تھا پس میں نے اس کے خلاف دعا کی اور میرے رب نے مجھے جایا کہ یہ چھ سال کے عرصے میں مر جائے گا اس میں طلبگاروں کیلئے بہت سی نشانیاں ہیں ۔ اس کے بعد مزید تشریح معلوم ہوئی اور وہ آپ کی کتاب برکات الدعا کے ٹائٹل پیج پر اس عنوان کے نیچے شائع کی گئی کہ " لیکھرام پشاوری کی نسبت ایک اور خبر" اور اس میں یہ لکھا گیا کہ ” آج ۲ - اپریل ۱۸۹۳ء مطابق ۱۴- ماه رمضان ۱۳۱۰ ھ ( روز یکشنبہ مؤلف) ہے صبح کے وقت تھوڑی سی غنودگی کی حالت میں میں نے دیکھا کہ میں ایک وسیع مکان میں بیٹھا ہوا ہوں اور چند دوست بھی میرے پاس موجود ہیں ۔ اتنے میں ایک شخص قوی ہیکل مہیب شکل گویا اس کے چہرے سے خون ٹپکتا ہے میرے سامنے آکر کھڑا ہو گیا میں نے نظر اٹھا کر دیکھا تو مجھے معلوم ہوا کہ وہ ایک نئی خلقت اور شمائل کا شخص ہے گویا انسان نہیں ملا تک شد ادو غلاظ میں سے ہے اور اس کی ہیبت دلوں پر طاری تھی اور میں اس کو دیکھتا ہی تھا کہ اس نے مجھ سے پوچھا کہ لیکھرام کہاں ہے؟ ہے اور ؟ اور ایک اور اور شخص شخص کا کا نام نام لیا لیا کہ کہ وہ وہ کہاں کہاں۔ ہے تب میں نے اس وقت سمجھا کہ یہ شخص لیکھرام اور دوسرے شخص کی سزا دہی کیلئے مامور کیا گیا ہے ۲۷۰۔ اور کتاب مستطاب آئینہ کمالات اسلام میں آپ نے لیکھرام کے متعلق اپنی ایک نظم میں یہ اشعار شائع کئے - الا اے دشمن نادان و بے راہ منکر از شمان محمد کرامت گرچه بے نام و نشان است الا اے مترس از تیغ بران محمد هم از نور نمایان محمد بیا بنگر ز غلمان محمد الله ان تمام پیشگوئیوں سے واضح ہوتا ہے کہ آپ کو مختلف اوقات میں خبر دی گئی تھی کہ (1) لیکھرام پر کوئی عذاب نازل کیا جائے گا جس کا نتیجہ موت ہو گا۔ (۲) یہ عذاب چھ سال کے عرصے میں آئے گا ۔ (۳) یہ عذاب جس دن آئے گا وہ دن عید کے دن سے بالکل ملا ہو ا دن ہو گا یعنی عید کے پہلے یا پچھلے دن (۳) لیکھرام سے وہی سلوک کیا جائے گا جو گو سالہ سامری سے کیا گیا تھا اور