انوارالعلوم (جلد 7) — Page 539
انوار العلوم جلدے ۵۳۹ دعوة الامير وہ سلوک یہ تھا کہ گوسالہ کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے جلایا اور دریا میں ڈال دیا گیا تھا۔ (۵) اس کی ہلاکت کیلئے ایک شخص جس کی نظروں سے خون ٹپکتا تھا مقرر کیا گیا ہے ۔ (۶) وہ رسول کریم کی تلوار کا کشتہ ہو گا۔ یہ نشانات اور علامتیں اتنی واضح ہیں کہ ان کے منطوق اور مفہوم کی نسبت کچھ بھی شبہ نہیں رہ جاتا۔ ان پیشگوئیوں کے پورے پانچ سال کے بعد جبکہ دشمن ہنس رہے تھے کہ پانچ سال گزر گئے اور کچھ بھی نہیں ہوا ہوا مرزا صاحب جھوٹے نکلے ، عید الفطر کے جو جمعہ کو ہوئی تھی دوسرے دن ہفتے کو عصر کے وقت لیکھرام کسی نامعلوم شخص کے تیز خنجر سے زخمی کیا گیا اور اتوار کے دن مر گیا اور اللہ تعالی کا کلام اپنی تمام تفاصیل کے ساتھ پورا ہوا۔ الہام میں تھا کہ وہ چھ سال کے اندر مرے گا وہ چھ سال کے اندر ہی مر گیا، بتایا گیا تھا کہ اس کا واقعہ عید کے دن سے ملے ہوئے دن کو ہو گا اور وہ مؤمنوں کیلئے عید کا دن ہو گا چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ وہ عید کے دوسرے ہی دن زخمی ہوا کہا گیا تھا کہ اس کو کوئی شخص جس کے چہرے سے خون ٹپکتا ہوا معلوم ہوتا تھا ہلاک کرے گا سو ایسا ہی ہوا بتایا گیا تھا کہ اس کو تیغ محمد تقتل کرے گی سو وہ قتل کیا گیا ، خبر دی گئی تھی کہ اس کا حال گوسالہ سامری کی طرح ہو گا سو جس طرح گوسالہ سامری ہفتے کے دن ٹکڑے ٹکڑے کیا گیا تھا وہ بھی ہفتے ہی کے دن ٹکڑے ٹکڑے کیا گیا اور جس طرح خو ساله سامری پہلے جلایا گیا اور پھر اس کی راکھ دریا میں ڈالی گئی تھی اسی طرح لیکھرام بھی بسبب ہندو ہونے کے پہلے جلایا گیا اور پھر اس کی راکھ دریا میں ڈالی گئی۔ اس کے قتل کے واقعات کی تفصیل یہ بتائی جاتی ہے کہ ایک شخص اس کے پاس آیا جس کی نسبت کہا جاتا ہے کہ اس کی آنکھوں سے خون ٹپکتا تھا اور اس نے لیکھرام سے کہا کہ وہ مسلمان سے ہندو ہونا چاہتا ہے ۔ لیکھرام نے باوجود لوگوں کے سمجھانے کے کہ اس کو اپنے پاس رکھنا ٹھیک نہیں اس کو اپنے پاس رکھا، لیکھرام کو اس پر بہت اعتبار ہو گیا تھا، آخر اس نے وہی دن اس کو آریہ بنانے کیلئے مقرر کیا جس دن وہ زخمی کیا گیا وہ ہفتے کا دن تھا اور لیکھرام کچھ لکھ رہا تھا اس نے نامعلوم شخص سے کوئی کتاب اٹھا دینے کیلئے کہا۔ اس پر اس شخص نے انداز سے تو یہ ظاہر کیا کہ گویا وہ کتاب اٹھا کر لا رہا ہے لیکن پاس پہنچتے ہی اس نے لیکھرام کے پیٹ میں منجر پیوست کر دیا اور پھر اس کو کئی مرتبہ گھما کر ہلایا تاکہ انتڑیاں کٹ جائیں اور پھر وہ شخص جیسا کہ لیکھرام کے رشتہ داروں کا بیان ہے غائب ہو گیا۔ لیکھرام مکان کی دوسری منزل پر تھا اور اس کے مکان کے نیچے دروازے کے پاس اس وقت بہت سے لوگ جمع تھے لیکن کوئی شخص گواہی