انوارالعلوم (جلد 7) — Page 537
انوار العلوم جلد ہے ۵۳۷ دعوة الامير روشنی ایک بیمار آنکھ کی بینائی کو صدمہ ہی پہنچاتی ہے یہی حال اس کا تھا۔ جب بحث مباحثے نے طول پکڑا یہ شخص رسول کریم ﷺ کی نسبت بد گوئی میں بڑھتا ہی چلا گیا اور حضرت اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام کی نسبت بھی ٹھٹھے کرتا اور کہتا رہا کہ مجھے کوئی نشان کیوں نہیں دکھاتے تو آخر حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کے متعلق اللہ تعالی سے دعا کی اور آپ کو بتایا گیا کہ اس کے لئے یہ نشان ہے کہ یہ جلد ہلاک کیا جائے گا اس پیشگوئی کے شائع کرنے سے پہلے آپ نے لیکھ نے لیکرام سے دریافت کیا کہ اگر اس پیشگوئی کے شائع کرنے سے اس کو رنج پہنچے تو اس کو ظاہر نہ کیا جائے مگر اس نے اس کے جواب میں لکھا کہ مجھے آپ کی پیشگوئیوں سے کچھ خوف نہیں ہے آپ بیٹک پیشگوئی شائع کریں ۔ مگر چونکہ پیشگوئی میں وقت کی تعیین نہ تھی اور لیکھرام وقت کی تعیین کا مطالبہ کرتا تھا آپ نے اس پیشگوئی کے شائع کرنے میں اس وقت تک توقف کیا جب تک اللہ تعالی کی طرف سے وقت معلوم ہو جائے ۔ آخر اللہ تعالی کی طرف سے یہ خبر پا کر کہ ۲۰۔ فروری ۱۸۹۳ء سے لیکر چھ برس کے اندر لیکھرام پر ایک دردناک عذاب آئے گا جس کا نتیجہ موت ہوگا ہو گا یہ پیشگوئی شائع کر دی ساتھ ہی عربی زبان میں یہ الہام بھی شائع کیا جو لیکھرام کی نسبت تھا یعنی عِجْلٌ جَسَدُ لَهُ خُوَار لَهُ نَصَبٌ وَعَذَابٌ ٢٦٤۔ یعنی یہ شخص گوساله سامری کی طرح ایک بچھڑا ہے جو یونہی شور مچاتا ہے ورنہ اس میں روحانی زندگی کا کچھ حصہ نہیں اس پر ایک بلا نازل ہو گی اور عذاب آئے گا۔ اس کے بعد آپ نے لکھا کہ اب میں تمام فرقہ ہائے مذاہب پر ظاہر کرتا ہوں کہ اگر اس شخص پر چھ برس کے عرصے میں آج کی تاریخ سے یعنی ۲۰۔ فروری ۱۸۹۳ء سے کوئی ایسا عذاب نازل نہ ہوا جو معمولی تکلیفوں سے نرالا اور خارق عادت اور اپنے اندر الہی ہیبت رکھتا ہو تو سمجھو کہ میں خدا کی طرف سے نہیں ۔ ۲۶۸ ۲۶۷ اس پیشگوئی کے کچھ عرصے کے بعد آپ نے دوسری پیشگوئی جس میں اس شخص کی ہلاکت کے متعلق مزید وضاحت تھی شائع کی۔ اس کے الفاظ یہ تھے ۔ وَبَشَّرَنِي رَبِّي وَقَالَ مُبَشِّرًا سَتَعْرِفُ يَوْمَ الْعِيدِ وَالْعِيدُ اقْرَبْ وَمِنْهَا مَا وَعَدَنِي رَبِّي وَاسْتَجَابَ دُعَائِي فِي رَجُلٍ مُفْسِدٍ عَدُوٌّ اللَّهِ وَرَسُولِهِ الْمُسَمَّى ليكهرام الْفَشَاوَرِي وَاخْبَرَنِي رَبِّي أَنَّهُ مِنَ الْهَالِكِينَ إِنَّهُ كَانَ يَسُبُّ نَبِيَّ اللَّهِ وَيَتَكَلَّمُ فِي شَأْنِهِ بِكَلِمَةٍ خَثِينَةٍ فَدَ وَفَدَعَوْتُ عَلَيْهِ وَبَشَرَنِي رَبِّي بِمُونِهِ فِي سِتِ سَنَةٍ