انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 529 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 529

انوار العلوم جلده ۵۲۹ دعوة الامير آئے مگر اس نے قسم کھانے سے انکار کر دیا ہاں بلا قسم کے ایک اعلان کر دیا کہ میں اب بھی مسیحی مذہب کو سچا سمجھتا ہوں مگر اللہ تعالی نے جس کا ولوں اور دماغوں پر تصرف ہے اس کے انہیں اعلانات میں اس کے قلم سے یہ نکلوا دیا کہ میں مسیح کو دوسرے مسیحیوں کی طرح خدا نہیں سمجھتا اور جیسا کہ الہام کے الفاظ اوپر نقل کئے گئے ہیں، پیشگوئی یہ تھی کہ جو ایک بندے کو خدا بنا رہا ہے وہ ہادیہ میں گرایا جاوے گا اور آتھم نے اقرار کر لیا کہ وہ مسیح کو خدا نہیں سمجھتا، مگر پھر بھی اس پر زور دیا گیا کہ اگر وہ فی الحقیقت ان ایام میں اپنے مذہب کی سچائی کے متعلق متردد نہیں ہوا اور اسلام کی صداقت کا احساس اس کے دل میں نہیں پیدا ہو گیا تھا تو وہ قسم کھا کر اعلان کر دے کہ میں ان ایام میں برا برا نہیں خیالات پر قائم رہا ہوں جو اس سے پہلے میرے تھے ۔ اگر وہ قسم کھا جائے اور ایک سال تک اس پر عذاب الہی نہ آئے تو پھر ہم جھوٹے ہوں گے اور یہ بھی لکھا کہ اگر آتھم قسم کھا جائے تو اسے ہم ایک ہزار روپیہ بھی انعام دیں گے ۔ اس کا جواب آتھم نے یہ دیا کہ اس کے مذہب میں قسم کھانی جائز نہیں حالانکہ انجیل میں حواریوں کی بہت سی قسمیں درج ہیں اور مسیحی حکومتوں میں کوئی بڑا عہدہ دار نہیں جسے بغیر قسم کھانے کے عہدہ دیا جائے یہاں تک کہ بادشاہ کو بھی قسم دی جاتی ہے ، جوں کو بھی قسم دی جاتی ہے ، ممبران پارلیمینٹ کو بھی قسم دی جاتی ہے عہدیداران سول و فوج کو بھی قسم دی جاتی ہے اور عدالتوں میں گواہوں کو بھی قسم دی جاتی ہے بلکہ مسیحی عدالتوں کا تو یہ قانون ہے کہ انہوں نے قسم کو صرف مسیحیوں کیلئے مخصوص کر دیا سوائے مسیحیوں کے دوسروں سے وہ قسم نہیں لیتیں بلکہ گواہی کے وقت یہ کہلواتی ہیں کہ میں جو کچھ کہوں گا خدا کو حاضر و ناظر جان کر کہوں گا۔ پس جبکہ مسیحیوں کے نزدیک قسم صرف مسیحیوں کا حق ہے تو اس کا یہ عذر بالکل نا معقول تھا اور صرف قسم سے بچنے کے لئے تھا کیونکہ وہ ان ہیبت ناک نظاروں کو پہلے دیکھ چکا تھا جو اس کو یقین دلا ر ہے تھے کہ اگر اس نے قسم کھائی تو وہ ہلاک ہو جائے گا۔ اس شخص کے قسم کھانے سے انکار کرنے کی حقیقت اور بھی واضح ہو جاتی ہے جبکہ ہم دیکھتے ہیں کہ مسیحیوں میں کوئی بڑا نہ ہی عہدہ نہیں دیا جاتا جب تک کہ امیدوار قسم نہیں کھا لیتا اور پر انسٹنٹ فرقہ کے پادریوں کو تو جس سے آتھم تعلق رکھتا تھا دو قسمیں کھانی پڑتی ہیں ایک گر جاسے وفاداری کی اور ایک حکومت سے وفاداری کی۔ جب اس کے سامنے یہ باتیں رکھی گئیں تو پھر وہ بالکل ہی خاموش ہو گیا۔ ادھر سے انعام کی رقم ایک ہزار سے بڑھا کر آہستہ آہستہ چار ہزار تک کر دی گئی اور یہ بھی کہا گیا کہ سال