انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 528 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 528

انوار العلوم جلدے ۵۲۸ دعوة الامير کہ وہ خاص طور پر عبد اللہ آتھم کو جا کر کائیں اور نہ ہندوستان میں اسلحہ کی عام آزادی ہے کہ لوگ نیزے لیکر شہروں کی سڑکوں پر کھڑے رہیں تاکہ عبد اللہ آتھم کو مار دیں۔ در حقیقت یہ ایک ہاویہ تھی جو اس پشیمانی کی وجہ سے جو اس کے دل میں مسیحیت کی حمایت اور اسلام کے خلاف کھڑے ہونے کے متعلق پیدا ہو چکی تھی اللہ تعالی کی طرف سے اس بڑی ہاویہ کے بدلے میں پیدا کی گئی تھی جس میں بصورت ضد پر قائم رہنے کے وہ ڈالا جاتا اگر فی الواقع اس کا ایمان مسیحیت پر قائم رہتا اور اسلام کو وہ اسی طرح جھوٹا سمجھتا جس طرح کہ پہلے جھوٹا سمجھتا تھا تو کس طرح ممکن تھا کہ وساوس اور خطرات کی اس جنم میں پڑ جاتا اور جانوروں اور کیڑوں تک کو اپنا دشمن سمجھ لیتا اور خیالی سانپ اور کتے اسے کاٹنے کو دوڑتے ۔ اگر وہ اللہ تعالٰی کو اپنے خلاف نہیں سمجھنے لگ گیا تھا تو کیوں اسے خدا کی تمام مخلوق اپنے خلاف کھڑی نظر آتی تھی اور وہ مسیحیت کی قلمی اور زبانی ہر قسم کی مدد کا کام یک لخت ترک کر کے شہروں میں بھاگتا پھرا۔ غرض اللہ تعالی نے اپنے الہام میں جو دوسری شق رجوع الی الحق کی بتائی تھی اور جو کہ پہلی شق سے زیادہ مشکل تھی وہ عجیب طور پر پوری ہوئی اور آتھم کا دل مسیح کی خدائی میں شک لانے لگ گیا اور اسلام کی سچائی کا نقش اس کے دل پر جم گیا تب اللہ تعالی کی خبر کا دوسرا حصہ بھی پورا ہوا یعنی باوجود اس کے کہ اسے اندرونی خوف نے موت کے بالکل قریب کر دیا تھا پندرہ ماہ تک زندہ رکھا گیا تاکہ اللہ تعالٰی کی بات پوری ہو کہ اگر اس نے رجوع کیا تو وہ بچایا جائے گا۔ یہ ایک زبر دست پیشگوئی تھی جو لوگوں کی آنکھیں کھولنے کیلئے کافی تھی، لیکن اگر یہ خاموشی سے گذر جاتی تو شاید کچھ مدت کے بعد لوگ کہہ دیتے کہ آتھم نے کوئی رجوع نہ کیا تھا یہ آپ لوگوں کی بناوٹ ہے اس لئے اللہ تعالی نے اس پیشگوئی کی مزید وضاحت کیلئے مسیحیوں اور مسلمانوں میں سے ایک گروہ کو کھڑا کر دیا جو ایک مسیحی کی حمایت میں شور کرنے لگے کہ پیشگوئی جھوٹی نکلی اور آتھم نہیں مرا۔ اس پر ان کو بتایا گیا کہ پیشگوئی کی دو صورتیں تھیں ان میں سے دوسری صورت وضاحت سے پوری ہو گئی ہے مگر انہوں نے انکار کیا اور کہا کہ آتھم نے ہرگز رجوع نہیں کیا اس پر آتھم کو حضرت اقدس نے دعوت دی کہ اس کے مسیحی اور مسلمان وکیل جو کچھ کہہ رہے ہیں اگر سچ ہے تو اسے چاہئے کہ قسم کھا کر اعلان کرے کہ اس کے دل میں اس عرصے میں اسلام کی صداقت اور مسیحی عقائد کے باطل ہونے کے خیالات نہیں