انوارالعلوم (جلد 7) — Page 527
انوار العلوم جلدے ۵۲۷ دعوة الامير اس کے مددگار اور نائب بنے تھے ۔ پس ایسے شخص کی نسبت میں خیال ہو سکتا ہے کہ اس کو مسیحیت پر کامل یقین تھا اور یہ کہ وہ مسیحیت کی اس قدر تائید کرنے اور اس کا سب سے بڑا مناظر قرار پانے کے بعد مسیح کی خدائی کا ایک منٹ کیلئے بھی منکر نہ ہو گا اور کبھی اسلام کی معجزانہ طاقت کا خیال اپنے دل میں نہیں آنے دے گا اور یہ بات کہ اس صورت میں وہ پندرہ ماہ میں مر جاوے گا گو اپنی ذات میں شاندار ہے مگر پھر بھی ایک پینسٹھ سال کی عمر کے آدمی کی نسبت شبہ کیا جا سکتا تھا کہ شاید اس کی عمر ہی پوری ہو چکی ہو مگر ان کے مقابلے میں دوسری صورت کے دونوں پہلو زیادہ شاندار ہیں یعنی یہ کہ اگر وہ رجوع کرلے گا تو پندرہ ماہ کے اند رہادیہ موت میں نہیں گرایا جائے گا۔ اس صورت کا پہلا پہلو بھی کہ آتھم رجوع کرلے اس بات سے کہ وہ اپنی ضد پر قائم رہے زیادہ شاندار ہے کیونکہ کسی انسان کی موت تو انسانوں کے ہاتھوں سے بھی آ سکتی ہے مگر کسی کو پندرہ ماہ تک زندہ رکھنا کسی کے اختیار میں نہیں ہے پس اگر دو الردوسری صورت پیشگوئی کی پوری ہوتی تو وہ پہلی صورت کے پورے ہونے کی نسبت بہت شاندار ہوتی اور اللہ تعالٰی نے جس کے آگے کوئی بات نا ممکن نہیں اس دوسرے پہلو کو ہی جو زیادہ مشکل تھا اختیار کیا یعنی اس نے اپنا رعب اس کے رعب اس کے دل پر ڈال دیا اور پہلا اثر اس پیشگوئی کا یہ ظاہر ہوا کہ آتھم نے عین مجلس مباحثہ میں اپنے کانوں پر ہاتھ رکھ کر کہا کہ وہ رسول کریم اللہ کو دجال نہیں کہتا ہے۔ اس پیشگوئی کے شائع ہونے کے بعد تمام ہندوستان کی نظریں اس طرف لگ گئیں کہ دیکھئے اس کا کیا نتیجہ نکلتا ہے مگر اللہ تعالی نے پندرہ ماہ کا انتظار نہیں کروایا اس پیشگوئی کے شائع کرنے کے وقت سے ہی آتھم کی حالت بدلنی شروع ہو گئی اور اس نے مسیحیت کی تائید میں کتب و رسالہ جات لکھنے کا کام بالکل بند کر دیا ایک مشہور مبلغ اور مصنف کا اپنے کام کو بالکل چھوڑ دینا اور خاموش ہو کر بیٹھ جانا معمولی بات نہ تھی بلکہ تین دلیل تھی اس امر کی کہ اس کا دل محسوس کرنے لگ گیا ہے کہ اسلام سچا ہے اور اس کا مقابلہ کرنے میں اس نے غلطی کی ہے مگر خاموشی پر ہی اس نے بس نہ کی بلکہ ایک روحانی ہاویہ میں گرایا گیا یعنی اس خیال کا اثر کہ اس نے اس مقابلے میں غلطی کی ہے اس قدر گہرا ہوتا چلا گیا کہ اسے عجیب عجیب قسم کے نظارے نظر آنے لگے جیسا کہ اس نے اپنے رشتہ داروں اور دوستوں سے بیان کیا کبھی تو اسے سانپ نظر آتے جو اسے کاٹنے کو دوڑتے ، کبھی کتے اسے کاٹنے کو دوڑتے اور کبھی نیزہ بردار لوگ اس کے خیال میں اس پر حملہ آور ہوتے ، حالانکہ نہ تو سانپ اور کتے اس طرح سدھائے جاسکتے ہیں