انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 519 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 519

انوار العلوم جلدے ۵۱۹ دعوة الامير جاتے تھے اور بڑے بڑے حکام ان کا تقویٰ اور دیانت دیکھ کر ان سے خلوص رکھتے تھے وہ کتب دیں۔ آپ نے ان کتابوں کو پڑھ کر یہ فیصلہ کر لیا کہ حضرت اقدس راستباز اور صادق ہیں اور اپنے ایک شاگرد کو مزید تحقیقات کے لئے بھیجا اور ساتھ ہی اجازت دی کہ وہ ان کی طرف سے بیعت بھی کر آئے ۔ اس شاگرد کا نام مولوی عبدالرحمٰن تھا انہوں نے قادیان آکر خود بھی بیعت کی اور مولوی عبد اللطیف صاحب کی طرف سے بھی بیعت کی۔ اور پھر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی کتب لے کر واپس افغانستان کو چلے گئے اور ارادہ کیا کہ پہلے کابل جائیں تا کہ وہاں اپنے بادشاہ تک بھی اس دعوت کو پہنچادیں۔ ان کے کابل پہنچنے پر بعض کو تاہ اندیش بد خواہان حکومت نے امیر عبدالرحمن صاحب کو ان کے خلاف اکسایا اور کہا کہ یہ شخص مرتد اور دائرہ اسلام سے خارج اور واجب القتل ہے اور ان کو دھوکا دیکر ان کے قتل کا فتویٰ حاصل کیا اور نہایت ظالمانہ طور پر ان کو قتل کر دیا اور وہ جو اپنے بادشاہ سے اس قدر پیار کرتا تھا کہ پیشتر اس کے کہ اپنے وطن کو جاتا پہلے اپنے بادشاہ کے پاس یہ خوشخبری لے کر پہنچا کہ خدا کا مسیح اور مہدی آگیا ہے ۔ اس کی محبت اور اس کے پیار کا اس کو یہ بدلہ دیا گیا کہ اسے گردن میں کپڑا ڈال کر اور دم بند کر کے شہید کر دیا گیا مگر اس واقعہ میں اللہ تعالی کا ہاتھ تھا اس نے قریب میں سال پہلے دو وفادار افراد رعایا کی بلا کسی قانون شکنی کے قتل کئے جانے کی خبر دیدی تھی اور اس خبر کو پورا ہو کر رہنا تھا۔ سو اس قتل کے ذریعے سے ان دو شخصوں میں سے جن کے قتل کی خبر دی گئی تھی ایک قتل ہو گیا۔ اس واقعہ کے ایک دو سال کے بعد صاحبزادہ عبداللطیف صاحب شہید حج بیت اللہ کے ارادے سے اپنے وطن سے روانہ ہوئے۔ چونکہ حضرت اقدس " کی بیعت تو کر ہی چکے تھے ارادہ کیا کہ جاتے وقت آپ سے بھی ملتے جائیں چنانچہ اس ارادے سے قادیان تشریف لائے مگر یہاں آکر اس سے پہلے جو کتابوں کے ذریعے سے سمجھا تھا بہت کچھ زیادہ دیکھا اور صفائی قلب کی وجہ سے نور الہی کی طرف ایسے جذب کئے گئے کہ حج کے ارادے کو ملتوی کر دیا اور قادیان ہی رہ گئے ۔ چند ماہ کے بعد واپس وطن کو گئے اور فیصلہ کر لیا کہ اپنے بادشاہ کو بھی اس نعمت میں شریک کروں جو مجھے ملی ہے اور خوست پہنچتے ہی چار خط کابل کے چار درباریوں کے نام لکھے ان خطوط کے کابل پہنچنے پر جناب کے والد امیر حبیب اللہ خان صاحب ۲۵۵۔ والٹی ریاست کابل کو لوگوں نے بھڑکایا اور قسم قسم کے جھوٹے اتہام لگا کر ان کو اس بات پر آمادہ کر