انوارالعلوم (جلد 7) — Page 518
انوار العلوم جلدے ۵۱۸ دعوة الامير عَلَيْهَا فَإِن ۲۵۴ یعنی دو بکرے ذبح کئے جاویں گے اور ہر ایک جو اس زمین پر بستا ہے فنا ہو جائے گا۔ علم التعبیر کے مطابق شاہ کی دو تعبیریں ہو سکتی ہیں، ایک تو عورتیں اور دوسرے نہایت مطیع اور فرمانبردار رعایا، چونکہ عورتوں کے معنوں کے ساتھ اگلے فقرے کا کوئی تعلق نہیں معلوم ہوتا کیونکہ عورتوں کا ذبح ہونے سے کم ہی تعلق ہوتا ہے زیادہ تر جان دینے والے مرد ہی ہوتے ہیں اس لئے زیادہ تر قرین قیاس یہی معنے ہو سکتے ہیں کہ دو آدمی جو اپنے بادشاہ کے نہایت فرمانبردار اور مطیع ہوں گے باوجود اس کے کہ انہوں نے کوئی جرم اپنے بادشاہ کا نہ کیا ہو گا اور اس کا کوئی قانون نہ تو ڑا ہو گا اور سزائے قتل کے مستحق نہ ہوں گے قتل کئے جاویں گے اور اس کے بعد ملک پر ایک عام تباہی آوے گی اور ہلاکت اس میں ڈیرے ڈالے گی۔ اس پیشگوئی میں گو ملک وغیرہ کا کچھ نشان نہیں دیا گیا تھا مگر اس کی عبارت سے یہ ضرور معلوم ہوتا تھا کہ اول تو یہ واقعہ انگریزی علاقہ میں نہیں ہو گا بلکہ کسی ایسے ملک میں ہو گا جہاں عام ملکی قانون کی اطاعت کرتے ہوئے بھی لوگوں کے غصے اور ناراضگی کے نتیجے میں انسان قتل کئے جاسکتے ہیں۔ دوم یہ کہ یہ مقتول مہم کے پیروؤں میں سے ہوں گے کیونکہ اگر ایسا نہ ہو تو پھر اس کو صرف دو مقتولوں کے متعلق خبر دینے کی کوئی وجہ نہ تھی۔ تیسری یہ بات معلوم ہوئی کہ وہ قتل نا واجب ہو گا کسی سیاسی جرم کے متعلق نہ ہو گا، چوتھے یہ کہ اس ناواجب فعل کے بدلے میں اس ملک پر ایک عام تباہی آوے گی۔ یہ چاروں باتیں مل کر اے بادشاہ ! اس پیشگوئی کو معمولی پیشگوئیوں سے بہت بالا کر دیتی ہیں اور کوئی نہیں کہہ سکتا کہ چونکہ اس میں ملک کی تعیین نہیں اس لئے یہ پیشگوئی مہم ہے ان چاروں باتوں کا یکجا طور پر پورا ہونا پیشگوئی کی عظمت کو ثابت کر دیتا ہے کیونکہ یہ چاروں باتیں اتفاقی طور پر جمع نہیں ہو سکتیں۔ اس پیشگوئی کے بعد قریباً بیس سال تک کوئی ایسے آثار نظر نہ آئے جن سے کہ یہ پیشگوئی پوری ہوتی معلوم ہو ۔ مگر جب کہ قریباً بیس سال اس الہام پر گذر گئے تو ایسے سامان پیدا ہونے لگے جنہوں نے اس پیشگوئی کو حیرت انگیز طور پر پورا کر دیا ۔ اتفاق ایسا ہوا کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعض کتب کوئی شخص افغانستان میں لے گیا اور وہاں خوست کے ایک عالم سید عبد اللطیف صاحب کو جو حکومت افغانستان میں عزت کی نگاہوں سے دیکھے