انوارالعلوم (جلد 7) — Page 520
انوار العلوم جلدے ۵۲۰ دعوة الامير دیا کہ وہ ان کو پکڑوا کر کابل بلوالیں۔ خوست کے گورنر کے نام حکم کیا اور صاحبزادہ عبداللطیف کابل حاضر کئے گئے۔ امیر صاحب نے آپ کو ملانوں کے سپرد کیا جنہوں نے کوئی قصور آپ کا ثابت نہ پایا مگر بعض لوگوں نے جن کو سلطنت کے مفاد کے مقابلے میں اپنی ذاتی خواہشات کا پورا کرنا زیادہ مد نظر ہوتا ہے امیر حبیب اللہ خان صاحب کو بھڑکایا کہ اگر یہ شخص چھوڑ دیا گیا اور لوگوں نے اس کا اثر قبول کر لیا تو لوگوں کے دلوں میں جہاد کا جوش سرد پڑ جائے گا اور حکومت کو نقصان پہنچے گا آخر ان کے سنگسار کئے جانے کا فتویٰ دیدیا گیا۔ امیر حبیب اللہ خان صاحب نے اپنے نزدیک ان کی خیر خواہی سمجھ کر ان کو کئی دفعہ تو بہ کرنے کیلئے کہا۔ مگر انہوں نے یہی جواب دیا کہ میں تو اسلام پر ہوں تو بہ کر کے کیا کافر ہو جاؤں میں کسی صورت میں بھی اس حق کو نہیں چھوڑ سکتا جسے میں نے سوچ سمجھ کر قبول کیا ہے۔ جب ان کے رجوع سے بالکل مایوسی ہو گئی تو ایک بڑی جماعت کے سامنے ان کو شہر سے باہر لے جاکر سنگسار کر دیا ۔ یہ وفادار اپنے بادشاہ کا جان نثار چند خود غرض اور مطلب پرست سازشیوں کی سازش کا شکار ہوا اور انہوں نے امیر صاحب کو دھوکا دیا کہ اس کا زندہ رہنا ملک کیلئے مضر ہو گا حالانکہ یہ لوگ ملک کیلئے ایک پناہ ہوتے ہیں اور خدا ان کے ذریعے سے ملک کی بلائیں ٹال دیتا ہے۔ انہوں نے بادشاہ کے سامنے یہ امر پیش کیا کہ اگر یہ شخص زندہ رہا تو لوگ جہاد کے خیال میں سست ہو جائیں گے مگر یہ نہ پیش کیا کہ یہ شخص جس سلسلے میں ہے اس کی یہ بھی تعلیم ہے کہ جس حکومت کے ماتحت رہو اس کی کامل فرمانبرداری کرو۔ پس اس کی باتوں کی اشاعت سے افغانستان کی خانہ جنگیاں اور آپس کے اختلاف دور ہو کر سارے کا سارا ملک اپنے بادشاہ کا سچا جان نثار ہو جائے گا اور جہاں اس کا پسینہ بہے گا وہاں اپنا خون بہانے کیلئے تیار ہو گا اور یہ نہ بتایا کہ جس سلسلے سے یہ تعلق رکھتا ہے اس کی تعلیم یہ ہے کہ خفیہ سازشیں نہ کرو، رشوت رشوتیں نہ لو جھوٹ نہ بولو اور منافقت نہ کرو اور نہ صرف تعلیم دی جاتی ہے بلکہ اس کی پابندی بھی کروائی جاتی ہے پس اگر اس کے خیالات کی اشاعت ہوئی تو ایک دم ملک کی حالت سدھر کر ہر طرح کی ترقیات شروع ہو جائیں گی۔ اسی طرح انہوں نے یہ نہ بتایا کہ یہ اس جہاد کا منکر ہے کہ غیر اقوام پر بلا ان کی طرف سے مذہبی دست اندازی کے حملہ کیا جائے اور اسلام کو بدنام کیا جائے نہ کہ اس حقیقی دفاعی جہاد کا جو خود رسول کریم اللہ نے کیا اور نہ ان سیاسی جنگوں کا جو ایک قوم اپنی ہستی کے قیام کیلئے دوسری اقوام سے کرتی ہے ۔ اس کا تو صرف یہ عقیدہ ہے کہ بغیر اس کے