انوارالعلوم (جلد 7) — Page 517
انوار العلوم جلدے ۵۱۷ دعوة الامير اس معیار کے ماتحت جب ہم حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے دعوے کو دیکھتے ہیں تو آپ کی سچائی ایسے دن کی طرح نظر آتی ہے جس کا سورج نصف النہار پر ہو۔ آپ پر اللہ تعالٰی نے اس کثرت اور اس تواتر کے ساتھ غیب کی خبریں ظاہر کیں کہ رسول کریم ا کے سوا اور کسی نبی کی پیشگوئیوں میں اس کی نظیر نہیں ملتی بلکہ سچ یہ ہے کہ ان کی تعداد اس قدر بڑھی ہوئی ہے کہ اگر ان کو تقسیم کیا جائے تو کئی نبیوں کی نبوت ان سے ثابت ہو جائے۔ میں ان اخبار غیبیہ میں سے بارہ بطور مثال کے پیش کرتا ہوں۔ (۱۲) یہ پیشگوئیاں جو آپ نے کیں ، بیسیوں اقسام کی تھیں ، بعض سیاسی امور کے متعلق تھیں، بعض اجتماعی امور کے متعلق تھیں، بعض تغیرات جو کے متعلق تھیں، بعض مذہبی امور کے متعلق تھیں ، بعض دماغی قابلیتوں کے متعلق تھیں ، بعض نسلی ترقی یا قطع نسل کے متعلق تھیں، بعض تغیرات زمینی کے متعلق تھیں ، بعض تعلقات ڈول کے متعلق تھیں ، بعض تعلقات رعایا و حکام کے متعلق تھیں، بعض اپنی ترقیات کے متعلق تھیں، بعض دشمنوں کی ہلاکت کے متعلق تھیں ، بعض آئندہ حالات دنیا کے متعلق تھیں۔ غرض مختلف انواع و اقسام کے امور کے متعلق تھیں کہ ان کی اقسام ہی ایک لمبی فہرست میں بیان کی جاسکتی ہیں۔ اب میں ذیل میں بارہ پیشگوئیاں آپ کی جو پوری ہو چکی ہیں بیان کرتا ہوں اور سب سے پہلے اس پیشگوئی کا ذکر کرتا ہوں جو افغانستان ہی کے ساتھ تعلق رکھتی ہے۔ پہلی پیشگوئی صاحبزادہ عبد اللطیف شهید و مولوی عبدالرحمن صاحب شہید کی شہادت اور واقعات ما بعد کے متعلق اے بادشاہ ! اللہ تعالیٰ آپ کو اپنی حفظ و امان میں رکھے اور ان غلطیوں کے بد نتائج سے محفوظ رکھے جن کے ارتکاب میں آپ کا کوئی دخل نہ تھا آج سے چالیس سال پہلے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو الہام میں بتایا گیا تھا کہ شَاتَانِ تُدْبِحَانِ وَكُلُّ مَنْ