انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 500 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 500

انوار العلوم جلدے نویں دلیل علوم آسمانی کا انکشاف دعوة الامير نویں دلیل آپ کی صداقت کی کہ در حقیقت وہ بھی بہت سے دلائل پر مشتمل ہے یہ ہے کہ اللہ تعالی نے آپ پر قادرانہ طور پر ایسے علوم کا انکشاف کیا جن کا حصول انسانی طاقت سے بالا ہے نبیوں کی بعثت کی غرض ہی یہ ہوتی ہے کہ وہ لوگوں کو اس چشمہ تک پہنچائیں جس سے سیراب ہوئے بغیر روحانی زندگی قائم ہی نہیں رہ سکتی یعنی تمام زندگیوں کے منبع حضرت احدیث سے ان کو وابستہ اور متعلق کر دیں اور یہ بات بلا علوم روحانیہ کے حصول کے نہیں ہو سکتی۔ وہی شخص اللہ کا قرب حاصل کر سکتا ہے جسے اس کی معرفت حاصل ہو اور اس کے قرب کے ذرائع معلوم ہوں اور اس کی صفات کا باریک درباریک علم رکھتا ہو اور دوسروں کو وہی شخص روحانی امور میں ہدایت کر سکتا ہے جو ان باتوں سے حصہ وافر رکھتا ہو ۔ پس کسی مأموریت کے مدعی کا دعوی قابل تسلیم نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ خدا تعالیٰ کے غیر محدود علم سے حصہ نہ پائے اور اللہ تعالٰی اس کی علمی غور و پرداخت نہ کرے ۔ پس حضرت اقدس کے دعوے کی سچائی کے معلوم کرنے کیلئے ہم اس قانون کے ذریعے سے بھی آ۔ آپ کے دعوے پر غور کرتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ اللہ تعالی نے آپ پر کیا کیا علوم کھولے ہیں۔ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے ۔ وَ عَلَّمَ آدَمَ الأَسْمَاءَ كُلَّهَا ۲۳۱ اور ا ۔ اور اس نے حضرت آدم کو سب صفات الہیہ کے معنے صفات الہیہ کا علم دیا اور صفات الہیہ کے علم کے ماتحت سب قسم کا علم آجاتا ہے کیونکہ معرفت الہیہ کے معنے صفات الہیہ کا ایسا علم ہی ہے جو مشاہدہ کے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔ یہ علم ہر مامور کو دیا جاتا ہے۔ چنانچہ اللہ تعالٰی حضرت لوط کی نسبت فرماتا ہے ۔ وَلُوطًا أَتَيْنَهُ حُكْمًا وَ عِلْمًا ۲۳۲۔ اور حضرت داود و داود" و سلیمان کی نسبت فرماتا ہے۔ أَتَيْنَا دَاوُدَ وَسُلَيْمَنَ عِلْمًا ۲۳۳ اور حضرت یوسف یوسف کی نسبت فرماتا ہے وَلَمَّا بَلَغَ اشْتَه أَتَيْنَهُ حُكْمًا وَ عِلْمًا ۲۳۴ اور اور حضرت موسیٰ کی نسبت فرماتا ہے وَلَمَّا بَلَغَ اشْدَهُ وَاسْتَوَى أَتَيْنُهُ حُكْمًا وَ عِلْمًا وَكَذَلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ ۲۳۵۔ اور آنحضرت ا کی ولقد اتينا او