انوارالعلوم (جلد 7) — Page 501
انوار العلوم جلدے ۵۰۱ دعوة الامير نسبت فرماتا ہے وَعَلَّمَكَ مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُ وَكَانَ فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْكَ عَظِيمًا ٣٦ کہ آپ گو وہ علم سکھایا ہے جو پہلے آپ کو معلوم نہ تھا اور پھر اور علوم کے اظہار کا وعدہ کرتا ہے اور یہ دعا سکھاتا ہے۔ قُلْ رَّبِّ زِدْنِي عِلْمًا ۲۳۷۔ پس ان آیات سے معلوم ہوا کہ ہر مامور کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک خاص علم دیا جاتا ہے ۔ چنانچہ اسی قسم کا علم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھی دیا گیا۔ صرف فرق یہ ہے کہ پہلے ماموروں کو تو صرف باطنی علم دیا جاتا تھا مگر آپ کو اپنے مطاع اور آقا آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اتباع میں ظاہری اور باطنی دونوں قسم کا علم دیا گیا۔ یعنی علم روحانی بھی دیا گیا اور اس کے بیان کرنے کا اعلیٰ طریق بھی بخشا گیا اور اللہ تعالیٰ نے دونوں باتوں میں آپ کو بے نظیر بنایا نہ تو علوم باطنیہ کے جاننے میں کوئی شخص آپ آپ کا کام مقابلہ کر سکتا ہے اور نہ ان کے بیان کرنے میں کوئی شخص آپ کا مقابلہ کر سکتا ہے۔ عَلَى عَبْدِنَا دے۔ ان دونوں قسم کے علموں میں سے پہلے میں ظاہری قسم کا علم لیتا ہوں۔ یہ معجزہ آپ سے پہلے صرف نبی کریم کے ذریعے ظاہر کیا گیا ہے پہلے انبیاء میں اسکی نظیر نہیں ملتی۔ آنحضرت پر جو وحی نازل ہوئی اس کے متعلق اللہ تعالٰی فرماتا ہے۔ وَإِنْ كُنتُمْ فِي رَيْبٍ مِّمَّا نَزَلْنَا فَأْتُوا بِسُورَةٍ مِّنْ مِثْلِهِ وَادْعُوا شُهَدَاءَكُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ إِن كُنتُمْ صَدِقِينَ ک ہے ۔ اگر تم کو اس کتاب کے سبب جو ہم نے اپنے اس بندے پر نازل کی ہے شکوک و شبہات پیدا ہو گئے ہیں تو پھر اس کی ایک سورۃ جیسی ہی کوئی عبارت لے آؤ اور اس کی تیاری کیلئے اللہ تعالی کے سوا جس قدر تمہارے بزرگ ہیں سب کو اپنی مدد کیلئے جمع کر لو مگر یاد رکھو کہ پھر بھی تم اس کی مثال لانے پر قادر نہیں ہو سکو گے ۔ اس آیت میں ہر قسم کی خوبیوں میں قرآن کریم کو بے مثل قرار دیا گیا ہے جن میں سے ایک خوبی ظاہری خوبی بھی ہے قرآن کریم کی فصاحت کی طرف اور جگہوں پر بھی ا اپر بھی اللہ تعالی نے توجہ دلائی ہے چنانچہ فرماتا ہے كِتَبُ احْكِمَتْ التُهُ ثُمَّ فُصِّلَتْ مِن لَّدُنْ حَكِيمٍ خَبِيرٍ ٢٣٩ ۔ یہ کتاب ایسی ہے کہ اس کے احکام نہایت مضبوط چٹان پر قائم کئے گئے ہیں اور پھر ان کو بے نظیر طور پر کھول کر بیان کیا گیا ہے اس خدا کی طرف سے جو بڑی حکمتوں کا مالک ہے اور واقعات سے باخبر ہے یعنی حکیم کی طرف سے پُر حکمت کلام ہی آنا چاہئے اور خبیر جانتا ہے کہ اب علمی زمانہ شروع ہونے والا ہے اس لئے علمی معجزات کی ضرورت ہے پس اس نے قرآن کریم کی زبان کو مفضل بنایا ہے ، یعنی وہ اپنی وضاحت آپ کرتا ہے اور اپنی خوبی کا خود شاہد ہے ۔