انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 490 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 490

انوار العلوم جلدے ۴۹۰ دعوة الامير میں ایک بڑے مولوی صاحب کا ذکر کر چکا ہوں جو فرقہ اہلحدیث کے لیڈر تھے اور جو حضرت اقدس علیہ الصلوة وال ۃ والسلام کے بچپن کے واقف تھے اور جنہوں نے آپ کی تصنیف اہین احمدیہ کی اشاعت پر ایک زبردست ریویو لکھا تھا اور اس میں آر میں آپ کی خدمات کو بے نظیر قرار دیا تھا۔ جب آپ نے مسیح موعود ہونے کا دعوی کیا تو یہ مولوی صاحب بگڑ گئے اور سخت ناراض ہوئے اور انہوں نے یہ ، یہ خیال کیا کہ شاید کتاب براہین احمدیہ : پر جو میں جو میں نے ریویو لکھا تھا اس پر ان کے دل میں عجب پیدا ہو گیا ہے اور یہ بھی اپنے آپ کو کچھ سمجھنے لگ گئے ہیں اور اس خیال سے انہوں نے یہاں تک لکھ دیا کہ یہ میرے ریویو پر نازاں ہے میں نے ہی اس کو بڑھایا ہے اور میں ہی اس کو اب گرادوں گا۔ یہ عزم کر کے یہ مولوی صاحب اپنے گھر سے نکلے اور ہندوستان کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک کا دورہ کیا اور بیسیوں علماء سے کفر کا فتویٰ لیا اور یہاں تک ان فتوؤں میں لکھوالیا کہ یہ شخص ہی کافر نہیں بلکہ اس کے مرید بھی کافر ہیں بلکہ جو شخص ان سے کلام کرے وہ بھی کافر ہے اور جو شخص ان کو کافر نہ سمجھے وہ بھی کافر ہے ۔ اس فتوے کو تمام ہندوستان میں چھپوا کر شائع کیا اور خیال کر لیا کہ اس زبردست حملے سے میں نے ان کو ذلیل کر دیا مگر اس بیچارے کو کیا معلوم تھا کہ آسمان پر اللہ تعالیٰ کے فرشتے پکار پکار کہہ رہے تھے کہ وَلَقَدِ اسْتَهْزِئَ بِرُسُلِ مِنْ قَبْلِكَ فَحَاقَ بِالَّذِينَ سَخِرُوا مِنْهُمْ مَا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِءُونَ اورای طرح اس کے قدوسی پکار پکار کر کہہ رہے تھے کہ رانی مُهِينٌ مَنْ أَرَادَاهَا نَتَكَ میں اس کی ہتک کروں گا جو تیری ہتک کا ارادہ کرے گا۔ 1 اے بادشاہ! ابھی بہت عرصہ اس فتوے کو شائع ہوئے نہیں گزرا تھا کہ ان مولوی صاحب کی عزت لوگوں کے دلوں سے اللہ تعالی نے مثانی شروع کی۔ اس فتوے کی اشاعت سے پہلے ان کو یہ عزت حاصل تھی کہ لاہور دارالخلافہ پنجاب جیسے شہر میں جو آزاد طبع لوگوں کا شہر ہے بازاروں میں سے جب وہ گزرتے تھے تو جہاں تک نظر جاتی تھی لوگ ان کے ادب اور احترام کی وجہ سے کھڑے ہو جاتے اور ہندو وغیرہ غیر مذاہب کے لوگ بھی مسلمانوں کا ادب دیکھ کر ان کا ادب کرتے تھے اور جس جگہ جاتے لوگ ان کو آنکھوں پر بٹھاتے اور حکام اعلیٰ جیسے گورنر و گورنر جنرل ان سے عزت سے ملتے تھے مگر اس فتوے کے شائع کرنے کے بعد بغیر کسی ظاہری سامان کے پیدا ہونے کے ان کی عزت کم ہونی