انوارالعلوم (جلد 7) — Page 489
انوار العلوم جلدے ۴۸۹ دعوة الامير کرے تو اس کا تعلق اور اس کی محبت بے ثبوت رہے اور ماموروں کے دعوے مشتبہ ہو جائیں کیونکہ دنیا کے بادشاہ اور حاکم جن کی طاقتیں محدود ہوتی ہیں وہ بھی اپنے دوستوں اور اپنے کارکنوں کے راستے میں روک بنے والوں کو سزا دیتے ہیں اور ان سے عداوت رکھنے والوں سے مؤاخذہ کرتے ہیں۔ " قرآن کریم سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ ہماری عقل کا مطالبہ بالکل درست ہے اور اللہ تعالی تصدیق فرماتا ہے کہ اس کی طرف سے آنے والوں کے دشمنوں اور معاندوں کی ضرور گرفت ہونی چاہیے چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَى عَلَى اللَّهِ كَذِبًا أَوْ كَذَّبَ بِايْته إِنَّهُ لَا يُفْلِحُ الظَّلِمُونَ یعنی اس سے زیادہ ظالم کون ہو سکتا ہے جو اللہ تعالٰی پر جان بوجھ کر جھوٹ باندھے یا اللہ تعالی کی طرف سے آنے والے کی باتوں کو جھٹلا دے۔ بات یہ ہے کہ ظالم کبھی کامیاب نہیں ہوتے۔ اس آیت میں بتایا ہے کہ جس طرح اللہ تعالی پر افتراء کرنے والا کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا اسی طرح اللہ تعالی کی طرف سے آنے والے کی باتوں کو جھٹلانے والا بھی کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا۔ ۲۲۱ اسی طرح فرماتا ہے ۔ وَلَقَدِ اسْتَهْزِئَ بِرُسُلِ مِنْ قَبْلِكَ فَحَاقَ بِالذَّيْنَ سَخِرُوا مِنْهُمْ مَا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِهُ وَنَ قُلْ سِيرُوا فِي الْأَرْضِ ثُمَّ انظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِينَ اور تجھ سے پہلے جو رسول گزرے ہیں ان کے ساتھ بھی نہیں اور ٹھٹھا کیا گیا مگر آخر یہ ہوا کہ وہ لوگ جو ان میں خاص جو ان میں خاص طور پر ٹھٹھا کرنے والے تھے ان کو ان چیزوں نے گھیر لیا جن سے وہ ہنسی کرتے تھے تو کہہ دے کہ جاؤ زمین میں خوب پھرو اور دیکھو کہ خدا کے نبیوں کو جھٹلانے والوں کا انجام کیا ہوا ہے۔ اس مضمون کی آیات اس کثرت سے قرآن کریم میں پائی جاتی ہیں کہ زیادہ زور اس پر دینے کی ضرورت نہیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالی کی سنت ہے کہ اس کے ماموروں اور مرسلوں کا مقابلہ کرنے والے ہلاک کئے جاتے ہیں اور دوسروں کیلئے موجب عبرت ہوتے ہیں۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھی اسی مضمون کا الہام ہوا تھا کہ رانی مُهِينَ مَنْ أَرَادَاهَا نتک ۲۲۲۔ میں اس کو ذلیل کروں گا جو تیری اہانت کا ارادہ بھی کرے گا اور اس سنت مستمرہ اور اس وعدہ شمرہ اور اس وعدہ خاص کے مطابق حضرت اقدس علیہ الصلون ت اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام کے دشمنوں کے ساتھ وہ سلوک ہوا ہے کہ دیکھنے والے دنگ اور سننے والے حیران ہیں ۔