انوارالعلوم (جلد 7) — Page 491
انوار العلوم جلدے ۴۹۱ دعوة الامير شروع ہوئی اور آخر یہاں تک نوبت پہنچی کہ خود اس فرقے کے لوگوں نے بھی ان کو چھوڑ دیا جس کے وہ لیڈر کہلاتے تھے اور میں نے ان کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ اسٹیشن پر اکیلے اپنا اسباب جو وہ بھی تھوڑا نہ تھا اپنی بغل اور پیٹھ پر اٹھائے ہوئے اور اپنے ہاتھوں میں پکڑے ہوئے چلے جا رہے ہیں اور چاروں طرف سے دھکے مل رہے ہیں کوئی پوچھتا نہیں۔ لوگوں میں بے اعتباری اس قدر بڑھ گئی کہ بازار والوں نے سودا تک دینا بند کر دیا۔ دوسرے لوگوں کی معرفت سودا منگواتے اور گھر والوں نے قطع تعلق کر لیا بعض لڑکوں نے اور بیویوں نے ملنا جلنا چھوڑ دیا' ایک لڑکا اسلام سے مرتد ہو گیا غرض تمام قسم کی عزتوں سے ہاتھ دھو کر اور عبرت کا نمونہ دکھا کر اس دنیا سے رخصت ہوئے اور اپنی زندگی کے آخری ایام کی ایک ایک گھڑی سے اس آیت کی صداقت کا ثبوت دیتے چلے گئے کہ قُلْ سِيرُوا فِي الْأَرْضِ ثُمَّ انظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِينَ آپ کے دشمنوں کی ہلاکت کی دوسری مثال کے طور پر میں چراغ دین ساکن جموں کو پیش کرتا ہوں یہ شخص پہلے حضرت اقدس کے ماننے والوں میں سے تھا مگر بعد کو اس نے دعوی کیا کہ وہ خود دنیا کی اصلاح کیلئے مبعوث ہوا ہے اور آپ کے خلاف اس نے کئی رسائل اور مضامین شائع کئے اور آخر جب اس سے بھی تسلی نہ ہوئی تو آپ کے خلاف دعا کی اور اس دعا کو لکھ کر شائع کرنے کا ارادہ کیا اس دعا کا یہ مضمون تھا کہ اے خدا ! تیرا دین اس شخص (یعنی حضرت اقدس) کی وجہ سے فتنے میں ہے اور یہ شخص لوگوں کو ڈراتا ہے کہ طاعون میرے ہی سبب سے نازل ہوئی ہے اور زلزلے بھی میری ہی تکذیب کا نتیجہ ہیں تو اس شخص کو جھوٹا کر اور طاعون کو اب اٹھالے تاکہ اس کا جھوٹا ہونا ثابت ہو جائے اور حق اور باطل میں تمیز کر دے ۔ ۲۲۳ یہ دعا لکھ کر اس نے چھپنے کو دی لیکن خدا تعالٰی کی گرفت کو دیکھئے کہ مضمون دعا کی کاپیاں نے لکھی جا چکی تھیں مگر ابھی پتھر پر نہیں جمائی گئی تھیں کہ وہی طاعون جس کے اٹھائے جانے کی دعا اس نے اس لئے کی تھی تاکہ حضرت اقدس " کا یہ دعوی باطل ہو جائے کہ طاعون میری صداقت کے ثبوت کیلئے پھیلائی گئی ہے اس نے اس کے گھر پر آکر حملہ کیا اور پہلے تو اس کے دو بیٹے کہ وہی اس کی اولاد تھے طاعون میں گرفتار ہو کر مر گئے اور اس کی بیوی اس کو چھوڑ کر کسی اور شخص کے ساتھ بھاگ گئی اور لڑکوں کی موت کے بعد وہ خود بھی طاعون ہی کی مرض میں